اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ لَہُ الۡحَمۡدُ فِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱﴾

(1 - سبا)

Qari:


[All] praise is [due] to Allah, to whom belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth, and to Him belongs [all] praise in the Hereafter. And He is the Wise, the Acquainted.

سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو سب چیزوں کا مالک ہے یعنی) وہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے۔ اور وہ حکمت والا خبردار ہے

[اَلْحَمْدُ : تمام تعریفیں] [لِلّٰهِ : اللہ کے لیے] [الَّذِيْ لَهٗ : وہ جس کے لیے] [مَا : جو] [فِي السَّمٰوٰتِ: آسمانوں میں] [وَمَا : اور جو] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں] [وَلَهُ : اور اسی کے لیے] [الْحَمْدُ : ہر تعریف] [فِي الْاٰخِرَةِ ۭ : آخرت میں] [وَهُوَ : اور وہ] [الْحَكِيْمُ: حکمت والا] [ الْخَبِيْرُ : خبر رکھنے والا]

Tafseer / Commentary

اوصاف الٰہی۔
چونکہ دنیا اور آخرت کی سب نعمتیں رحمتیں اللہ ہی کی طرف سے ہیں ۔ ساری حکومتوں کا حاکم وہی ایک ہے۔ اس لئے ہر قسم کی تعریف و ثناء کا مستحق بھی وہی ہے۔ وہی معبود ہے جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ۔ اسی کیلئے دنیا اور آخرت کی حمد و ثناء سزاوار ہے۔ اسی کی حکومت ہے اور اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جاتے ہیں ۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اس کے ماتحت ہے۔ جتنے بھی ہیں سب اس کے غلام ہیں ۔ اس کے قبضے میں ہیں سب پر تصرف اسی کا ہے۔ آخرت میں اسی کی تعریفیں ہوں گی۔ وہ اپنے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت سب میں حکومت والا ہے اور ایسا خبردار ہے جس پر کوئی چیز مخفی نہیں، جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں، جو اپنے احکام میں حکیم، جو اپنی مخلوق سے باخبر، جتنے قطرے بارش کے زمین میں جاتے ہیں، جتنے دانے اس میں بوئے جاتے ہیں، اس کے علم سے باہر نہیں ۔ جو زمین سے نکلتا ہے، اگتا ہے، اسے بھی وہ جانتا ہے۔ اس کے محیط، وسیع اور بےپایاں علم سے کوئی چیز دور نہیں ۔ ہر چیز کی گنتی، کیفیت اور صفت اسے معلوم ہے۔ آسمان سے جو بارش برستی ہے، اس کے قطروں کی گنتی بھی اس کے علم میں محفوظ ہے جو رزق وہاں سے اترتا ہے وہ بھی اس کے علم میں ہے اس کے علم سے نیک اعمال وغیرہ جو آسمان پر چڑھتے ہیں وہ بھی اس کے علم میں ہیں ۔ وہ اپنے بندوں پر خود ان سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ اسی وجہ سے انکے گناہوں پر اطلاع رکھتے ہوئے انہیں جلدی سے سزا نہیں دیتا بلکہ مہلت دیتا ہے کہ وہ توبہ کرلیں ۔ برائیاں چھوڑ دیں رب کی طرف رجوع کریں ۔ پھر غفور ہے۔ ادھر بندہ جھکا رویا پیٹا ادھر اس نے بخش دیا یا معاف فرما دیا درگزر کرلیا۔ توبہ کرنے والا دھتکارا نہیں جاتا توکل کرنے والا نقصان نہیں اٹھاتا۔

Select your favorite tafseer