| Qari: |
And O my people, I ask not of you for it any wealth. My reward is not but from Allah. And I am not one to drive away those who have believed. Indeed, they will meet their Lord, but I see that you are a people behaving ignorantly.
اور اے قوم! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں، میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، میں ان کو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو
[وَيٰقَوْمِ: اور اے میری قوم] [لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ: میں نہیں مانگتا تم سے] [عَلَيْهِ: اس پر] [مَالًا: کچھ مال] [اِنْ: نہیں] [اَجْرِيَ: میرا اجر] [اِلَّا: مگر] [عَلَي اللّٰهِ: اللہ پر] [وَمَآ اَنَا: اور نہیں میں] [بِطَارِدِ: ہانکنے والا] [الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا: وہ جو ایمان لائے] [اِنَّهُمْ: بیشک وہ] [مُّلٰقُوْا: ملنے والے] [رَبِّهِمْ: اپنا رب] [وَلٰكِنِّيْٓ: اور لیکن میں] [اَرٰىكُمْ: دیکھتا ہوں تمہیں] [قَوْمًا: ایک قوم] [تَجْـهَلُوْنَ: جہالت کرتے ہو]
دعوت حق سب کے لیے یکساں ہے
آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ میں جو کچھ نصیحت تمہیں کر رہا ہوں جنتی خیر خواہی تمہاری کرتا ہوں اسکی کوئی اجرت تو تم سے نہیں مانگتا، میری اجرت تو اللہ کے ذمے ہے۔ تم جو مجھ سے کہتے ہو کہ ان غریب مسکین ایمان والوں کو میں دھکے دیدوں مجھ سے تو یہ کبھی نہیں ہو نے کا۔ یہی طلب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بھی کی گئی تھی جس کے جواب میں یہ آیت اتری ( وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ 52) 6- الانعام:52) یعنی صبح شام اپنے رب کے پکارنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ نکال۔ اور آیت میں ہے ( وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ 53) 6- الانعام:53) اسی طرح ہم نے ایک کو دورے سے آزما لیا اور وہ کہنے لگے کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہم سب کو چھوڑ کر اللہ کا فضل نازل ہوا ؟ کیا اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نہیں جانتا ؟