ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡقُرٰی نَقُصُّہٗ عَلَیۡکَ مِنۡہَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیۡدٌ ﴿۱۰۰﴾

(100 - ھود)

Qari:


That is from the news of the cities, which We relate to you; of them, some are [still] standing and some are [as] a harvest [mowed down].

یہ (پرانی) بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا

[ذٰلِكَ: یہ] [مِنْ؛سے] [اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي: بستیوں کی خبریں] [نَقُصُّهٗ: ہم یہ بیان کرتے ہیں] [عَلَيْكَ: تجھ پر (کو)] [مِنْهَا: ان سے] [قَاۗىِٕمٌ: قائم (موجود)] [وَّحَصِيْدٌ: کٹ چکیں]

Tafseer / Commentary

عبرت کدے کچھ آباد ہیں کچھ ویران
نبیوں اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرما کر ارشاد باری ہوتا ہے کہ یہ ان بستیوں والوں کے واقعات ہیں ۔ جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں ۔ ان میں سے بعض بستیاں تو اب تک آباد ہیں اور بعض مٹ چکی ہیں ۔ ہم نے انہیں ظلم سے ہلاک نہیں کیا۔ بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے کفر و تکذیب کی وجہ سے اپنے اوپر اپنے ہاتھوں ہلاکت مسلط کر لی۔ اور جن معبودان باطل کے انہیں سہارے تھے وہ بروقت انہیں کچھ کام نہ آسکے۔ بلکہ ان کی پوجا پاٹ نے انہیں اور غارت کر دیا۔ دونوں جہاں کا وبال ان پر آپڑا۔

Select your favorite tafseer