| Qari: |
[You disbelievers are] like those before you; they were stronger than you in power and more abundant in wealth and children. They enjoyed their portion [of worldly enjoyment], and you have enjoyed your portion as those before you enjoyed their portion, and you have engaged [in vanities] like that in which they engaged. [It is] those whose deeds have become worthless in this world and in the Hereafter, and it is they who are the losers.
(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو، جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ تھے تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں
[كَالَّذِيْنَ: جس طرح وہ لوگ جو] [مِنْ قَبْلِكُمْ: تم سے قبل] [كَانُوْٓا: وہ تھے] [اَشَدَّ: بہت زور والے] [مِنْكُمْ: تم سے] [قُوَّةً: قوت] [وَّاَكْثَرَ: اور زیادہ] [اَمْوَالًا: مال میں] [وَّاَوْلَادًا: اور اولاد] [فَاسْتَمْتَعُوْا: سو انہوں نے فائدہ اٹھایا] [بِخَلَاقِهِمْ: اپنے حصے سے] [فَاسْتَمْتَعْتُمْ: سو تم فائدہ اٹھا لو] [بِخَلَاقِكُمْ: اپنے حصے] [كَمَا: جیسے] [اسْتَمْتَعَ: فائدہ اٹھایا] [الَّذِيْنَ: وہ لوگ جو] [مِنْ قَبْلِكُمْ: تم سے پہلے] [بِخَلَاقِهِمْ: اپنے حصے سے] [وَخُضْتُمْ: اور تم گھسے] [كَالَّذِيْ: جیسے وہ] [خَاضُوْا: گھسے] [اُولٰۗىِٕكَ: وہی لوگ] [حَبِطَتْ: اکارت گئے] [اَعْمَالُهُمْ: ان کے عمل (جمع)] [فِي الدُّنْيَا: دنیا میں] [وَالْاٰخِرَةِ: اور آخرت] [وَاُولٰۗىِٕكَ: اور وہی لوگ] [هُمُ: وہ] [الْخٰسِرُوْنَ: خسارہ اٹھانے والے]
ان لوگوں کو بھی اگلے لوگوں کی طرح عذاب پہنچے۔
خلاق سے مراد یہاں دین ہے۔ جیسے اگلے لوگ جھوٹ اور باطل میں کودتے پھاندتے رہے۔ ایسے ہی ان لوگوں نے بھی کیا۔ انکے یہ فاسد اعمال اکارت ہوگئے۔ نہ دنیا میں سود مند ہوئے نہ آخرت میں ثواب دلانے والے ہیں ۔ یہی صریح نقصان ہے کہ عمل کیا اور ثواب نہ ملا۔ ابن عباس فرماتے ہیں جیسے آج کی رات کل کی رات سے مشابہ ہوتی ہے اسی طرح اس امت میں بھی یہودیوں کی مشابہت آگئی میرا تو خیال ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم ان کی پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ جانور کے سوراخ میں داخل ہوا ہے تو تم بھی اس میں گھسو گے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اپنے سے پہلے کے لوگوں کے طریقوں کی تابعداری کرو گے بالکل بالشت بہ بالشت اور ذراع بہ ذراع اور ہاتھ بہ ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی کے بل میں گھسے ہیں تو یقیناً تم بھی گھسو گے لوگوں نے پوچھا اس سے مراد آپ کی کون لوگ ہیں؟ کیا اہل کتاب؟ آپ نے فرمایا اور کون؟ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابوہریرہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو قرآن کے ان لفظوں کو پڑھ لو (كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً ) 9۔ التوبہ:69) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں خلاق سے مراد دین ہے۔ اور تم نے بھی اسی طرح کا خوض کیا جس طرح کا انہوں نے۔ لوگوں نے پوچھا کیا فارسیوں اور رومیوں کیطرح؟ آپ نے فرمایا اور لوگ ہی ہیں کون؟ اس حدیث کے مفہوم پر شاہد صحیح احادیث میں بھی ہیں ۔