وَ یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ اِنَّہُمۡ لَمِنۡکُمۡ ؕ وَ مَا ہُمۡ مِّنۡکُمۡ وَ لٰکِنَّہُمۡ قَوۡمٌ یَّفۡرَقُوۡنَ ﴿۵۶﴾

(56 - التوبۃ)

Qari:


And they swear by Allah that they are from among you while they are not from among you; but they are a people who are afraid.

اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں حالانکہ ہو تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں

[وَيَحْلِفُوْنَ: اور قسمیں کھاتے ہیں] [بِاللّٰهِ: اللہ کی] [اِنَّهُمْ: بیشک وہ] [لَمِنْكُمْ: البتہ تم میں سے] [وَمَا: حالانکہ نہیں] [هُمْ: وہ] [مِّنْكُمْ: تم میں سے] [وَلٰكِنَّهُمْ: اور لیکن وہ] [قَوْمٌ: لوگ] [يَّفْرَقُوْنَ: ڈرتے ہیں]

Tafseer / Commentary

جھوٹی قسمیں کھانے والوں کی حقیقت
ان کی تنگ دلی ان کی غیر مستقل مزاجی ان کس سراسیمگی اور پریشانی گھبراہٹ اور بےاطمینانی کا یہ حال ہے کہ تمہارے پاس آ کر تمہارے دل میں گھر کرنے کے لئے اور تمہارے ہاتھوں سے بچنے کے لئے بڑی لمبی چوڑی زبردست قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ ہم تمہارے ہیں ہم مسلمان ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے یہ صرف خوف و ڈر ہے جو ان کے پیٹ میں درد پیدا کر رہا ہے۔ اگر آج انہیں اپنے بچاؤ کے لئے کوئی قلعہ مل جائے اگر آج یہ کوئی محفوظ غار دیکھ لیں یا کسی اچھی سرنگ کا پتہ انہیں چل جائے تو یہ تو سارے کے سارے دم بھر میں اس طرف دوڑ جائیں تیرے پاس ان میں سے ایک بھی نظر نہ آئے کیونکہ انہیں تجھ سے کوئی محبت یا انس تو نہیں ہے یہ تو ضرورت مجبوری اور خوف کی بناء پر تمہاری چاپلوسی کر لیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں اسلام ترقی کر رہا ہے یہ جھکتے چلے جا رہے ہیں مومنوں کو ہر خوشی سے یہ جلتے تڑپتے ہیں ان کی ترقی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ موقعہ مل جائے تو آج بھاگ جائیں ۔

Select your favorite tafseer