| Qari: |
So let not their wealth or their children impress you. Allah only intends to punish them through them in worldly life and that their souls should depart [at death] while they are disbelievers.
تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں
[فَلَا تُعْجِبْكَ: سو تمہیں تعجب نہ ہو] [اَمْوَالُهُمْ: ان کے مال] [وَلَآ: اور نہ] [اَوْلَادُهُمْ: ان کی اولاد] [اِنَّمَا: یہی] [يُرِيْدُ: چاہتا ہے] [اللّٰهُ: اللہ] [لِيُعَذِّبَهُمْ: کہ عذاب دے انہیں] [بِهَا: اس سے] [فِي: میں] [الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا: دنیا کی زندگی] [وَتَزْهَقَ: اور نکلیں] [اَنْفُسُهُمْ: ان کی جانیں] [وَهُمْ: اور وہ] [كٰفِرُوْنَ: کافر ہوں]
کثرت مال و دولت عذاب بھی ہے
ان کے مال و اولاد کو للچائی ہوئی نگاہوں سے نہ دیکھ۔ ان کی دنیا کی اس ہیرا پھیری کی کوئی حقیقت نہ گن یہ ان کے حق میں کوئی بھلی چیز نہیں یہ تو ان کے لئے دنیوی سزا بھی ہے کہ نہ اس میں سے زکوٰۃ نکلے نہ اللہ کے نام خیرات ہو ۔ قتادہ کہتے ہیں یہاں مطلب مقدم موخر ہے یعنی تجھے ان کے مال و اولاد اچھے نہ لگنے چاہئیں اللہ کا ارادہ اس سے انہیں اس حیات دنیا میں ہی سزا دینے کا ہے پہلا قول حضرت حسن بصری کا ہے وہی اچھا اور قوی ہے امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں ۔ اس میں یہ ایسے پھنسے رہیں گے کہ مرتے دم تک راہ ہدایت نصیب نہیں ہو گی۔ یوں ہی بتدریج پکڑ لئے جائیں گے اور انہیں پتہ بھی نہ چلے گا یہی حشمت و جاہت مال و دولت جہنم کی آگ بن جائے گا۔