| Qari: |
And of His signs is [that] He shows you the lightning [causing] fear and aspiration, and He sends down rain from the sky by which He brings to life the earth after its lifelessness. Indeed in that are signs for a people who use reason.
اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ تم کو خوف اور اُمید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے مینھہ برساتا ہے۔ پھر زمین کو اس کے مر جانے کے بعد زندہ (و شاداب) کر دیتا ہے۔ عقل والوں کے لئے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
[وَمِنْ اٰيٰتِهٖ : اور اس کی نشانیوں سے] [يُرِيْكُمُ : وہ دکھاتا ہے تمہیں] [الْبَرْقَ : بجلی] [خَوْفًا : خوف] [وَّطَمَـعًا اور امید کے لیے] [وَّيُنَزِّلُ : اور وہ نازل کرتا ہے] [مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے] [مَاۗءً : پانی] [فَيُحْيٖ بِهِ : پھر زندہ کرتا ہے اس سے] [الْاَرْضَ : زمین] [بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ: اس کے مرنے کے بعد] [اِنَّ : بیشک] [فِيْ ذٰلِكَ : اس میں] [لَاٰيٰتٍ : البتہ نشانیاں ] [لِّقَوْمٍ : ان لوگوں کے لیے] [يَّعْقِلُوْنَ : عقل سے کام لیتے ہیں]
قیام ارض و سما
اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والی ایک اور نشانی بیان کی جارہی ہے کہ آسمانوں پر اس کے حکم سے بجلی کوندتی ہے جسے دیکھ کر کبھی تمہیں دہشت لگنے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کڑک کسی کو ہلاک کردے کہیں بجلی گرے وغیرہ اور کبھی تمہیں امید بندھتی ہے کہ اچھا ہوا اب بارش برسے گی پانی کی ریل پیل ہوگی ترسالی ہوجائے گی وغیرہ ۔ وہی ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس زمین کو جو خشک پڑی ہوئی تھی جس پر نام نشان کی کوئی ہریاول نہ تھی مثل مردے کے بیکار تھی اس بارش سے وہ زندہ کردینے پر قادر ہے۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ زمین وآسمان اسی کے حکم سے قائم ہیں وہ آسمان کو زمین پر گرنے نہیں دیتا اور آسمان کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں زوال سے بچائے ہوئے ہے۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) جب کوئی تاکیدی قسم کھانا چاہتے تو فرماتے اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے زمین وآسمان ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ پھر قیامت کے دن وہ زمین وآسمان کو بدل دے گا مردے اپنی قبروں سے زندہ کرکے نکالے جائنگے۔ خود اللہ انہیں آواز دے گا اور یہ صرف ایک آواز پر زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہونگے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی حمد کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلوگے کہ تم بہت ہی کم رہے۔ اور آیت میں ہے ( فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ 13ۙ) 79- النازعات:13) صرف ایک ہی آواز سے ساری مخلوق میدان حشر میں جمع ہوجائے گی اور آیت میں ہے ( اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ 53) 36- يس:53) یعنی وہ تو صرف ایک آواز ہوگی جسے سنتے ہی سب کے سب ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔