| Qari: |
Then, indeed your Lord, to those who emigrated after they had been compelled [to renounce their religion] and thereafter fought [for the cause of Allah] and were patient - indeed, your Lord, after that, is Forgiving and Merciful
پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے
[ثُمَّ: پھر] [اِنَّ: بیشک] [رَبَّكَ: تمہارا رب] [لِلَّذِيْنَ: ان لوگوں کے لیے] [هَاجَرُوْا: انہوں نے ہجرت کی] [مِنْۢ بَعْدِ: اس کے بعد] [مَا: کہ] [فُتِنُوْا: ستائے گئے وہ] [ثُمَّ: پھر] [جٰهَدُوْا: انہوں نے جہاد کیا] [وَصَبَرُوْٓا: اور انہوں نے صبر کیا] [اِنَّ: بیشک] [رَبَّكَ: تمہارا رب] [مِنْۢ بَعْدِهَا: اس کے بعد] [لَغَفُوْرٌ: البتہ بخشنے والا] [رَّحِيْمٌ: نہایت مہربان]
صبر و استقامت
یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو بوجہ اپنی کمزوری اور مسکینی کے مشرکین کے ظلم کے شکار تھے اور ہر وقت ستائے جاتے تھے آخر انہوں نے ہجرت کی۔ مال ، اولاد، ملک، وطن چھوڑ کر اللہ کی راہ میں چل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں مل کر پھر جہاد کے لئے نکل پڑے اور صبر و استقامت سے اللہ کے کلمے کی بلندی میں مشغول ہو گئے، انہیں اللہ تعالیٰ ان کاموں یعنی قبولیت فتنہ کے بعد بھی بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے۔ روز قیامت ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں لگا ہو گا، کوئی نہ ہوگا جو اپنی ماں یا باپ یا بھائی یا بیوی کی طرف سے کچھ کہہ سن سکے اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا۔ نہ ثواب گھٹے نہ گناہ بڑھے۔ اللہ ظلم سے پاک ہے۔