| Qari: |
Then, has your Lord chosen you for [having] sons and taken from among the angels daughters? Indeed, you say a grave saying.
(مشرکو!) کیا تمہارے پروردگار نے تم کو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول بات) کہتے ہو
[اَفَاَصْفٰىكُمْ: کیا تمہیں چن لیا] [رَبُّكُمْ: تمہارا رب] [بِالْبَنِيْنَ: بیٹوں کے لیے] [وَاتَّخَذَ: اور بنا لیا] [مِنَ: سے۔ کو] [الْمَلٰۗىِٕكَةِ: فرشتے] [اِنَاثًا: بیٹیاں] [اِنَّكُمْ: بیشک تم] [لَتَقُوْلُوْنَ: البتہ کہتے ہو (بولتے ہو)] [قَوْلًا عَظِيْمًا: بڑا بول]
مجرمانہ سوچ پر تبصرہ
ملعون مشرکوں کی تردید ہو رہی ہے کہ یہ تم نے خوب تقسیم کی ہے کہ بیٹے تمہارے اور بیٹیاں اللہ کی ۔ جو تمہیں ناپسند جن سے تم جلو کڑھو ۔ بلکہ زندہ درگور کر دو انہیں اللہ کے لئے ثابت کرو ۔ اور آیتوں میں بھی ان کا یہ کمینہ پن بیان ہوا ہے کہ یہ کہتے ہیں رب رحمان کی اولاد ہے حقیقتا انکا یہ قول نہایت ہی برا ہے بہت ممکن ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائے ، زمین شق ہو جائے ، پہاڑ چورا چورا ہو جائیں کہ یہ اللہ رحمان کی اولاد ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ اللہ کو یہ کسی طرح لائق ہی نہیں ۔ زمین و آسمان کی کل مخلوق اس کی غلام ہے ۔ سب اس کے شمار میں ہیں اور گنتی میں اور ایک ایک اس کے سامنے قیامت کے دن تنہا پیش ہونے والا ہے ۔