وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ لَا ہُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیۡرٍ ۙ﴿۸﴾

(8 - الحج)

Qari:


And of the people is he who disputes about Allah without knowledge or guidance or an enlightening book [from Him],

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو خدا (کی شان) میں بغیر علم (ودانش) کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے جھگڑتا ہے

[وَ: اور] [مِنَ النَّاسِ: لوگوں میں سے] [مَنْ: جو] [يُّجَادِلُ: جھگڑتا ہے] [فِي اللّٰهِ: اللہ (کے بارے) میں] [بِغَيْرِ عِلْمٍ: بغیر کسی علم] [وَّ: اور] [لَا هُدًى: بغیر کسی دلیل] [وَّلَا: اور بغیر کسی] [كِتٰبٍ: کتاب] [مُّنِيْرٍ: روشن]

Tafseer / Commentary

گمراہ جاہل مقلدلوگ
چونکہ اوپر کی آیتوں میں گمراہ جاہل ملقدوں کا حال بیان فرمایا تھا یہاں ان کے مرشدوں اور پیروں کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ وہ بےعقلی اور بےدلیلی سے صرف رائے قیاس اور خواہش نفسانی سے اللہ کے بارے میں کلام کرتے رہتے ہیں، حق سے اعراض کرتے ہیں، تکبر سے گردن پھیرلیتے ہیں، حق کو قبول کرنے سے بےپراوہی کے ساتھ انکار کرجاتے ہیں جیسے فرعونیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کھلے معجزوں کو دیکھ کر بھی بےپراوہی کی اور نہ مانے ۔ اور آیت میں ہے جب ان سے اللہ کی وحی کی تابعداری کو کہا جاتا ہے اور رسول اللہ کے فرمان کی طرف بلایا جاتا ہے تو تو دیکھے گا کہ اے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ منافق تجھ سے دور چلے جایا کرتے ہیں ۔ سورۃ منافقون میں ارشاد ہوا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اور اپنے لئے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے استغفار کرواؤ تو وہ اپنے سرگھما کر گھمنڈ میں آکر بےنیازی سے انکار کرجاتے ہیں حضرت لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے صاحبزادے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا آیت ( وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ للنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ 18؀ۚ) 31- لقمان:18) لوگوں سے اپنے رخسار نہ پھلادیا کر یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر ان سے تکبر نہ کر۔ اور آیت میں ہے ہماری آیتیں سن کر یہ تکبر سے منہ پھیرلیتا ہے ۔ لیضل کا لام یہ تولام عاقبت ہے یا لام تعلیل ہے اس لئے کہ بسا اوقات اس کا مقصود دوسروں کو گمراہ کرنا نہیں ہوتا اور ممکن ہے کہ اس سے مراد معاند اور انکار ہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ ہم نے اسے ایسا بداخلاق اس لئے بنا دیا ہے کہ یہ گمراہوں کا سردار بن جائے۔ اس کے لئے دنیا میں بھی ذلت وخواری ہے جو اس کے تکبر کا بدلہ ۔ یہ یہاں تکبر کرکے بڑا بننا چاہتا تھا ہم اسے اور چھوٹا کردیں گے یہاں بھی اپنی چاہت میں ناکام اور بےمراد رہے گا۔ اور آخرت کے دن بھی جہنم کی آگ کا لقمہ ہوگا۔ اسے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے کا کہ یہ تیرے اعمال کا نتیجہ ہے اللہ کی ذات ظلم سے پاک ہے جیسے فرمان ہے کہ فرشتوں سے کہا جائے گا کہ اسے پکڑ لو اور گھسیٹ کر جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر آگ جیسے پانی کی دھار بہاؤ۔ لے اب اپنی عزت اور تکبر کا بدلہ لیتا جا۔ یہی وہ ہے جس سے عمربھر شک شبہ میں رہا ۔ حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک دن میں وہ ستر ستر مرتبہ آگ میں جل کر بھرتا ہوجائے گا۔ پھر زندہ کیا جائے گا پھر جلایا جائے گا (اعاذنا اللہ )۔

Select your favorite tafseer