وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ خِلۡفَۃً لِّمَنۡ اَرَادَ اَنۡ یَّذَّکَّرَ اَوۡ اَرَادَ شُکُوۡرًا ﴿۶۲﴾

(62 - الفرقان)

Qari:


And it is He who has made the night and the day in succession for whoever desires to remember or desires gratitude.

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔ (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں)

[وَهُوَ: اور وہی] [الَّذِيْ جَعَلَ: جس نے بنایا] [الَّيْلَ: رات] [وَالنَّهَارَ: اور دن] [خِلْفَةً: ایک دوسرے کے پیچھے آنیولا] [لِّمَنْ اَرَادَ: اس کے لیے جو چاہے] [اَنْ يَّذَّكَّرَ: کہ وہ نصیحت پکڑے] [اَوْ اَرَادَ: یا چاہے] [شُكُوْرًا: شکر گزار بننا]

Tafseer / Commentary

اللہ تعالیٰ کی رفعت وعظمت
اللہ تعالیٰ کی بڑائی، قدرت ، رفعت کو دیکھو کہ اس نے آسمان میں برج بنائے اس سے مراد یا تو بڑے بڑے ستارے ہیں یا چوکیداری کے برج ہیں ۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے اور ہوسکتا ہے کہ بڑے بڑے ستاروں سے مراد بھی یہی برج ہوں ۔ اور آیت میں ہے آسمان دنیا کو ہم نے ستاروں کیساتھ مزین بنایا۔ سراج سے مراد سورج ہے جو چمکتا رہتا ہے اور مثل چراغ کے ہے جیسے فرمان ہے آیت ( وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا 13؀۽) 78- النبأ:13) اور ہم نے روشن چراغ یعنی سورج بنایا اور چاند بنایا جو منور اور روشن ہے دوسرے نور سے جو سورج کے سوا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ اس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نوربنایا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا آیت ( اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا 15؀ۙ) 71- نوح:15) کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمان پیدا کیے اور ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنایا ۔ دن رات ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اس کی قدرت کا نظام ہے ۔ یہ جاتا ہے وہ آتا ہے اس کا جانا اس کا آنا ہے۔ جیسے فرمان ہے اس نے تمہارے لئے سورج چاند پے درپے آنے جانے والے بنائے ہیں ۔ اور جگہ ہے رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور جلدی جلدی اسے طلب کرتی آتی ہے۔ نہ سورج چاند سے آگے بڑھ سکے نہ رات دن سے سبقت لے سکے۔ اسی سے اس کے بندوں کو اسکی عبادتوں کے وقت معلوم ہوتے ہیں رات کا فوت شدہ عمل دن میں پورا کرلیں ۔ دن کا رہ گیا ہوا عمل رات کو ادا کرلیں ۔ صحیح حدیث شریف میں ہے اللہ تعالیٰ رات کو اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کرلے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے کہ رات کا گنہگار توبہ کرلے۔ حضرت عمر فاروق (رض) نے ایک دن ضحی کی نماز میں بڑی دیر لگادی ۔ سوال پر فرمایا کہ رات کا میرا وظیفہ کچھ باقی رہ گیا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے پورا یا قضا کرلوں ۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی خلفتہ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف یعنی دن روشن رات تاریک اس میں اجالا اس میں اندھیرا یہ نورانی اور وہ ظلماتی۔

Select your favorite tafseer