یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنۡ یَّاۡتِ مِنۡکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفۡ لَہَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَیۡنِ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۳۰﴾

(30 - الاحزاب)

Qari:


O wives of the Prophet, whoever of you should commit a clear immorality - for her the punishment would be doubled two fold, and ever is that, for Allah, easy.

اے پیغمبر کی بیویو تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول الله کو ایذا دینے کی) حرکت کرے گی۔ اس کو دونی سزا دی جائے گی۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

[يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ : اے نبی کی بیبیو] [مَنْ : جو کوئی] [يَّاْتِ : لائے (مرتکب ہو)] [مِنْكُنَّ : تم میں سے] [بِفَاحِشَةٍ : بیہودگی کے ساتھ] [مُّبَيِّنَةٍ : کھلی] [يُّضٰعَفْ : بڑھایا جائے گا] [لَهَا : اس کے لیے] [الْعَذَابُ : عذاب] [ضِعْفَيْنِ ۭ : دو چند] [وَكَانَ : اور ہے] [ذٰلِكَ : یہ] [عَلَي : پر] [اللّٰهِ : اللہ] [يَسِيْرًا : آسان]

Tafseer / Commentary

امہات المومنین سب سے معزز قرار دے دی گئیں
حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیویوں نے یعنی مومنوں کی ماؤں نے جب اللہ کو اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اور آخرت کے پہلے گھر کو پسند کر لیا اور حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے گھر میں وہ ہمیشہ کے لئے مقرر ہو چکیں ۔ تو اب جناب باری عز اسمہ اس آیت میں انہیں وعظ فرما رہا ہے اور بتلا دیا ہے کہ تمہارا معاملہ عام عورتوں جیسا نہیں ہے۔ اگر بالفرض تم نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری سے سرتابی اور بدخلقی سرزد ہوئی تو تمہیں دنیا اور آخرت میں عتاب ہوگا چونکہ تمہارے بڑے رتبے ہیں تمہیں گناہوں سے بالکل دور رہنا چاہئے۔ ورنہ رتبے کے مطابق مشکل بھی بڑھ جائے گی۔ اللہ پر سب باتیں سہل اور آسان ہیں ۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فرمان بطور شرط کے ہے اور شرط کا ہونا ضروری نہیں ہوتا جیسے فرمان ہے آیت (لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65؀) 39- الزمر:65) اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر تم شرک کرو گے تو تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں گے۔ نبیوں کا ذکر کر کے فرمایا آیت (وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 88؀) 6- الانعام:88) اگر یہ شرک کریں تو ان کی نیکیاں بیکار ہو جائیں اور آیت میں ہے ( قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ 81؀) 43- الزخرف:81) اگر رحمان کے اولاد ہو تو میں تو سب سے پہلے عابد ہوں اور آیت میں ارشاد ہو رہا ہے ( لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۝) 39- الزمر:4) یعنی اگر اللہ کو اولاد منظور ہوتی تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا پسند فرما لیتا وہ پاک ہے وہ یکتا اور ایک ہے وہ غالب اور سب پر حکمران ہے پس ان پانچوں آیتوں میں شرط کے ساتھ بیان ہے لیکن ایسا ہوا نہیں ۔ نہ نبیوں سے شرک ہونا ممکن نہ سردار رسولاں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے یہ ممکن۔ نہ اللہ کی اولاد۔ اسی طرح امہات المومنین کی نسبت بھی جو فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی کھلی لغو حرکت کرے تو اسے دگنی سزا ہوگی اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ واقعی ان میں سے کسی نے کوئی ایسی نافرمانی اور بدخلقی کی ہو ۔ نعوذ باللہ

Select your favorite tafseer