اِنۡ تُصِبۡکَ حَسَنَۃٌ تَسُؤۡہُمۡ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡکَ مُصِیۡبَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا قَدۡ اَخَذۡنَاۤ اَمۡرَنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ یَتَوَلَّوۡا وَّ ہُمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۵۰﴾

(50 - التوبۃ)

Qari:


If good befalls you, it distresses them; but if disaster strikes you, they say, "We took our matter [in hand] before," and turn away while they are rejoicing.

(اے پیغمبر) اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے۔ اور کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہیں (درست) کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں

[اِنْ: اگر] [تُصِبْكَ: تمہیں پہنچے] [حَسَنَةٌ: کوئی بھلائی] [تَسُؤْهُمْ: انہیں بری لگے] [وَاِنْ: اور اگر] [تُصِبْكَ: تمہیں پہنچے] [مُصِيْبَةٌ: کوئی مصیبت] [يَّقُوْلُوْا: تو وہ کہیں] [قَدْ اَخَذْنَآ: ہم نے پکڑ لیا (سنبھال لیا) تھا] [اَمْرَنَا: اپنا کام] [مِنْ قَبْلُ: اس سے پہلے] [وَيَتَوَلَّوْا: اور وہ لوٹ جاتے ہیں] [وَّهُمْ: اور وہ] [فَرِحُوْنَ: خوشیاں مناتے]

Tafseer / Commentary

بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن
ان بدباطن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور اگر اللہ نہ کرے یہاں اس کے خلاف ہوا تو بڑے شور و غل مچاتے ہیں گاگا کر اپنی چالاکی کے افسانے گائے جاتے ہیں کہ میاں اسی وجہ سے ہم تو ان سے بچے رہے مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دے کر رنج راحت اور ہم خود اللہ کی تقدیر اور اس کی منشا کے ماتحت ہیں وہ ہمارا مولیٰ ہے وہ ہمارا آقا ہے وہ ہماری پناہ ہے ہم مومن ہیں اور مومنوں کا بھروسہ اسی پر ہوتا ہے وہ ہمیں کافی ہے بس ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور بہترین کار ساز ہے۔

Select your favorite tafseer