وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِ ﴿ۙ۱۱﴾

(11 - الطَّارق)

Qari:


By the sky which returns [rain]

آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے

[وَالسَّمَاۗءِ : قسم آسمان کی] [ذَاتِ الرَّجْعِ : بارش والا]

Tafseer / Commentary

صداقت قرآن کا ذکر
رجع کے معنی بارش ، بارش والے بادل، برسنے ، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں سورج چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں اے نبی تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت ( نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ 24؀) 31- لقمان:24) یعنی ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بےبس کر دیں گے الحمد اللہ سورۃ طارق کی تفسیر ختم ہوئی۔

Select your favorite tafseer