تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿۲﴾

(2 - السجدۃ)

Qari:


[This is] the revelation of the Book about which there is no doubt from the Lord of the worlds.

اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے

[تَنْزِيْلُ : نازل کرنا] [الْكِتٰبِ : کتاب] [لَا رَيْبَ : کوئی شبہ نہیں] [فِيْهِ : اس میں] [مِنْ : سے] [رَّبِّ : پروردگار] [الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہان]

Tafseer / Commentary

سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان کی پوری بحث ہم سورۃ بقرہ کے شروع میں کرچکے ہیں ۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ کتاب قرآن حکیم بیشک وشبہ اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین کا یہ قول غلط ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود اسے گھڑلیا ہے۔ نہیں یہ تو یقینا اللہ کی طرف سے ہے اس لئے اترا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) اس قوم کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کردیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی اور پیغمبر نہیں آیا ۔ تاکہ وہ حق کی اتباع کرکے نجات حاصل کرلیں ۔

Select your favorite tafseer