| Qari: |
And Allah created you; then He will take you in death. And among you is he who is reversed to the most decrepit [old] age so that he will not know, after [having had] knowledge, a thing. Indeed, Allah is Knowing and Competent.
اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بےشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
[وَاللّٰهُ: اور اللہ] [خَلَقَكُمْ: پیدا کیا تمہیں] [ثُمَّ: پھر] [يَتَوَفّٰىكُمْ: وہ موت دیتا ہے تمہیں] [وَمِنْكُمْ: اور تم میں سے بعض] [مَّنْ: جو] [يُّرَدُّ اِلٰٓى: لوٹایا (پہنچایا) جاتا ہے طرف] [اَرْذَلِ الْعُمُرِ: ناکارہ۔ ناقص عمر] [لِكَيْ: تاکہ] [لَا يَعْلَمَ: وہ بے علم ہوجائے] [ بَعْدَ: بعد] [عِلْمٍ: علم] [شَـيْــــًٔـا:: کچھ] [اِنَّ: بیشک] [اللّٰهَ: اللہ] [عَلِيْمٌ: جاننے والا] [قَدِيْرٌ: قدرت والا]
بہترین دعا
تمام بندوں پر قبضہ اللہ تعالیٰ کا ہے ، وہی انہیں عدم وجود میں لایا ہے ، وہی انہیں پھر فوت کرے گا بعض لوگوں کو بہت بڑی عمر تک پہنچاتا ہے کہ وہ پھر سے بچوں جیسے ناتواں بن جاتے ہیں ۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں پچھتر سال کی عمر میں عموما انسان ایسا ہی ہو جاتا ہے طاقت ختم ہو جاتی ہے حافظہ جاتا رہتا ہے ۔ علم کی کمی ہو جاتی ہے عالم ہونے کے بعد بےعلم ہو جاتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی دعا میں فرماتے تھے (اللھم انی اعوذبک من البخل والکسل والھرم وارذل العمر و عذاب القبر وفتنتہ الدجال وفتنتہ المحیا و الممات) یعنی اے اللہ میں بخیلی سے ، عاجزی سے ، بڑھاپے سے ، ذلیل عمر سے ، قبر کے عذاب سے ، دجال کے فتنے سے ، زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں ۔ زہیر بن ابو سلمہ نے بھی اپنے مشہور قصیدہ معلقہ میں اس عمر کو رنج و غم کا مخزن و منبع بتایا ہے۔