اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۳۴﴾

(34 - القلم)

Qari:


Indeed, for the righteous with their Lord are the Gardens of Pleasure.

پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں

[اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ: بے شک متقی لوگوں کے لیے] [ عِنْدَ رَبِّهِمْ: ان کے رب کے نزدیک] [ جَنّٰتِ: باغات ہیں] [ النَّعِيْمِ: نعمتوں والے]

Tafseer / Commentary

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے
اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں ، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہو جائیں؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہو سکتا ، کیا ہو گیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور گزشتہ لوگوں کے ہاتھوں تم پچھلوں تک پہنچتی ہو اور اس میں وہی ہو جو تمہاری چاہت ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا کوئی مضبوط وعدہ اور عہد تم سے ہے کہ تم جو کہہ رہے ہو وہی ہوگا اور تمہاری بےجا اور غلط خواہشیں پوری ہو کر ہی رہیں گی؟ ان سے ذرا پوچھو تو کہ اس بات کا کون ضامن ہے اور کس کے ذمے یہ کفالت ہے؟ نہ سہی تمہارے جو جھوٹے معبود ہیں انہی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرو ۔

Select your favorite tafseer