| Qari: |
Invite to the way of your Lord with wisdom and good instruction, and argue with them in a way that is best. Indeed, your Lord is most knowing of who has strayed from His way, and He is most knowing of who is [rightly] guided.
(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے
[اُدْعُ: تم بلاؤ] [اِلٰى: طرف] [سَبِيْلِ: راستہ] [رَبِّكَ: اپنا رب] [بِالْحِكْمَةِ: حکمت (دانائی) سے] [وَالْمَوْعِظَةِ: اور نصیحت] [الْحَسَنَةِ: اچھی] [وَجَادِلْهُمْ: اور بحث کرو ان سے] [بِالَّتِيْ: ایسے جو] [هِىَ: وہ] [اَحْسَنُ: سب سے بہتر] [اِنَّ: بیشک] [رَبَّكَ: تمہارا رب] [هُوَ: وہ] [اَعْلَمُ: خوب جاننے والا] [بِمَنْ: اس کو جو] [ضَلَّ: گمراہ ہوا] [عَنْ: سے] [سَـبِيْلِهٖ: اس کا راستہ] [وَهُوَ: اور وہ] [اَعْلَمُ: خوب جاننے والا] [بِالْمُهْتَدِيْنَ: راہ پانے والوں کو]
حکمت سے مراد کتاب اللہ اور حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے
اللہ تعالیٰ رب العالمین اپنے رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو حکم فرماتا ہے کہ آپ اللہ کی مخلوق کو اس کی طرف بلائیں ۔ حکمت سے مراد بقول امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کلام اللہ اور حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے ۔ اور اچھے وعظ سے مراد جس میں ڈر اور دھمکی بھی ہو کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں ۔ اور اللہ کے عذابوں سے بچاؤ طلب کریں ۔ ہاں یہ بھی خیال رہے کہ اگر کسی سے مناظرے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ نرمی اور خوش لفظی سے ہو ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ ڰ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَاِلٰـهُنَا وَاِلٰــهُكُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ 46) 29- العنكبوت:46) اہل کتاب سے مناظرے مجادلے کا بہترین طریقہ ہی برتا کرو الخ ۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی نرمی کا حکم ہوا تھا ۔ دونوں بھائیوں کو یہ کہہ کر فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا کہ اسے نرم بات کہنا تاکہ عبرت حاصل کرے اور ہوشیار ہو جائے ۔ گمراہ اور ہدایت یاب سب اللہ کے علم میں ہیں ۔ شقی و سعید سب اس پر واضح ہیں ۔ وہاں لکھے جا چکے ہیں اور تمام کاموں کے انجام سے فراغت ہو چکی ہے ۔ آپ تو اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہیں لیکن نہ ماننے والوں کے پیچھے اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالئے ۔ آپ ہدایت کے ذمے دار نہیں آپ صرف آگاہ کرنے والے ہیں ، آپ پر پیغام کا پہنچا دینا فرض ہے ۔ حساب ہم آپ لیں گے ۔ ہدایت آپ کے بس کی چیز نہیں کہ جسے محبوب سمجھیں ، ہدایت عطا کر دیں لوگوں کی ہدایت کے ذمے دار آپ نہیں یہ اللہ کے قبضے اور اس کے ہاتھ کی چیز ہے ۔