اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۙ لَا یَہۡدِیۡہِمُ اللّٰہُ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾

(104 - النحل)

Qari:


Indeed, those who do not believe in the verses of Allah - Allah will not guide them, and for them is a painful punishment.

یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے

[اِنَّ: بیشک] [الَّذِيْنَ: وہ لوگ جو] [لَا يُؤْمِنُوْنَ: ایمان نہیں لاتے ہیں] [بِاٰيٰتِ اللّٰهِ: اللہ کی آیتوں پر] [لَا يَهْدِيْهِمُ: ہدایت نہیں دیتا انہیں] [اللّٰهُ: اللہ] [وَلَهُمْ: اور ان کے لیے] [عَذَابٌ اَلِيْمٌ: دردناک عذاب]

Tafseer / Commentary

ارادہ نہ ہو تو بات نہیں بنتی
جو اللہ کے ذکر سے منہ موڑے، اللہ کی کتاب سے غفلت کرے، اللہ کی باتوں پر ایمان لانے کا قصد ہی نہ رکھے ایسے لوگوں کو اللہ بھی دور ڈال دیتا ہے انہیں دین حق کی توفیق ہی نہیں ہوتی آخرت میں سخت درد ناک عذابوں میں پھنستے ہیں ۔ پھر بیان فرمایا کہ یہ رسول سلام علیہ اللہ پر جھوٹ و افترا باندھنے والے نہیں، یہ کام تو بدترین مخلوق کا ہے جو ملحد و کافر ہوں ان کا جھوٹ لوگوں میں مشہور ہوتا ہے اور آنحضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) تو تمام مخلوق سے بہتر و افضل دین دار، اللہ شناس، سچوں کے سے ہیں ۔ سب سے زیادہ کمال علم و ایمان، عمل و نیکی میں آپ کو اصل ہے۔ سچائی میں، بھلائی میں، یقین میں، معرفت میں، آپ کا ثانی کوئی نہیں ۔ ان کافروں سے ہی پوچھ لو یہ بھی آپ کی صداقت کے قائل ہیں ۔ آپ کی امانت کے مداح ہیں ۔ آپ ان میں محمد امین کے ممتاز لقب سے مشہور معروف ہیں ۔ شاہ روم ہرقل نے جب ابو سفیان سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نسبت بہت سے سوالات کئے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ دعویٰ نبوت سے پہلے تم نے اسے کبھی جھوٹ کی طرف نسبت کی ہے؟ ابو سفیان نے جواب دیا کبھی نہیں اس پر شاہ نے کہا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک وہ شخص جس نے دنیوی معاملات میں لوگوں کے بارے میں کبھی بھی جھوٹ کی گندگی سے اپنی زبان خراب نہ کی ہو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے۔

Select your favorite tafseer