وَ اِذَا رَاَوۡا تِجَارَۃً اَوۡ لَہۡوَۨا انۡفَضُّوۡۤا اِلَیۡہَا وَ تَرَکُوۡکَ قَآئِمًا ؕ قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ مِّنَ اللَّہۡوِ وَ مِنَ التِّجَارَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿٪۱۱﴾

(11 - الجُمعۃ)

Qari:


But when they saw a transaction or a diversion, [O Muhammad], they rushed to it and left you standing. Say, "What is with Allah is better than diversion and than a transaction, and Allah is the best of providers."

اور جب یہ لوگ سودا بکتا یا تماشا ہوتا دیکھتے ہیں تو ادھر بھاگ جاتے ہیں اور تمہیں (کھڑے کا) کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ کہہ دو کہ جو چیز خدا کے ہاں ہے وہ تماشے اور سودے سے کہیں بہتر ہے اور خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

[وَاِذَا: اور جب] [ رَاَوْا: انہوں نے دیکھا] [ تِجَارَةً: تجارت کو] [ اَوْ لَهْوَۨا: یا کھیل تماشے کو] [ انْفَضُّوْٓا اِلَيْهَا: مائل ہوگئے اس کی طرف] [ وَتَرَكُوْكَ: اور انہوں نے چھوڑ دیا آپ کو] [ قَاۗىِٕمًا: کھڑے۔ کھڑی حالت میں] [ قُلْ: کہہ دیجئے] [ مَا عِنْدَ اللّٰهِ: جو اللہ کے پاس ہے] [ خَيْرٌ: بہتر ہے] [ مِّنَ اللَّهْوِ: کھیل تماشے سے] [ وَمِنَ: اور ، سے] [ التِّجَارَةِ: تجارت (سے)] [ وَاللّٰهُ: اور اللہ] [ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ: بہترین رزق دینے والا ہے]

Tafseer / Commentary

تجارت عبادت اور صلوۃ جمعہ٭٭ مدینہ میں جمعہ والے دن تجارتی مال کے آ جانے کی وجہ سے جو حضرات خطبہ چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے ، انہیں اللہ تعالیٰ عتاب کر رہا ہے کہ یہ لوگ جب کوئی تجارت یا کھیل تماشہ دیکھ لیتے ہیں تو اس کی طرف چل کھڑے ہوتے ہیں اور تجھے خطبہ میں ہی کھڑا چھوڑ دیتے ہیں، حضرت مقاتل بن حیان فرماتے ہیں یہ مال تجارت وحیہ بن خلیفہ کا تھا جمعہ والے دن آیا اور شہر میں خبر کے لئے طب بجنے لگا حضرت وحیہ اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے، طبل کی آواز سن کر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے صرف چند آدمی رہ گئے، مسند احمد میں ہے صرف بارہ آدمی رہ گئے باقی لوگ اس تجارتی قافلہ کی طرف چل دیئے جس پر یہ آیت اتری۔ مسند ابو یعلی میں اتنا اور بھی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اگر وہ بھی باقی نہ رہتے اور سب کی طرف چل دیئے جس پر یہ آیت اتری ۔ مسند ابو یعلی میں اتنا اور بھی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اگر یہ بھی باقی نہ رہتے اور سب اٹھ کر چلے جاتے تو تم سب پر یہ وادی آگ بن کر بھڑک اٹھتی، جو لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس سے نہیں گئے تھے، ان میں حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق عنہما بھی تھے، اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کر پڑھنا چاہئے، صحیح مسلم میں ہے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جمعہ کے دن دو خطبے پڑھتے تھے درمیان میں بیٹھ جاتے تھے قرآن شریف پڑھتے تھے اور لوگوں کو تذکیرہ نصیحت فرماتے تھے، یہاں یہ بات بھی معلوم رہنی چاہئے کہ یہ واقعہ بہ قول بعض کے اس وقت کا ہے جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) جمعہ کی نماز کے بعد خطبہ پڑھا کرتے تھے۔ مراسیل ابو داؤد میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) خطبہ سے پہلے جمعہ کی نماز پڑھا کرتے تھے جیسے عیدین میں ہوتا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ آپ خطبہ سنا رہے تھے کہ ایک شخص نے آن کر کہا وحیہ بن خلیفہ مال تجارت لے کر آ گیا ہے، یہ سن کر سوائے چند لوگوں کے اور سب اٹھ کھڑے ہوگئے۔ پھر فرماتا ہے اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) انہیں خبر سنا دو کہ دار آخرت کا ثواب عند اللہ ہے وہ کھیل تماشوں سے خرید و فروخت سے بہت ہی بہتر ہے، اللہ پر توکل رکھ کر، طلب رزق اوقات اجازت میں جو کرے اللہ اسے بہترین طریق پر روزیاں دے گا۔ الحمد اللہ سورۃ جمعہ کی تفسیر پوری ہوئی۔

Select your favorite tafseer