When the sky has split [open]
جب آسمان پھٹ جائے گا
[اِذَا : جب] [السَّمَاۗءُ : آسمان] [انْشَقَّتْ : پھٹ جائے گا]
موطا امام مالک میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں آیت (اذا السماء انشقت) کی سورت پڑھی اور سجدہ کیا اور فارغ ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بھی اس کے پڑھتے ہوئے سجدہ کیا تھا یہ حدیث مسلم اور نسائی میں بھی ہے بخاری میں ہے حضرت ابو رافع فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی آپ نے اس میں آیت (اذا السماء انشقت) کی تلاوت کی اور سجدہ کیا میں نے پوچھا تو جواب دیا کہ میں نے ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیچھے سجدہ کیا ہے (یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بھی اس سورت کو نماز میں پڑھا اور آیت سجدہ پر سجدہ کیا اور مقتدیوں نے بھی سجدہ کیا) پس میں تو جب تک آپ سے ملوں گا (اس موقعہ پر) سجدہ کرتا رہوں گا (یعنی مرتے دم تک) اس حدیث کی سندیں اور بھی ہیں اور صحیح مسلم شریف اور سنن میں مروی ہے حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ سورۃ آیت (اذا السماء انشقت) میں اور سورۃ آیت (اقراء باسم ربک الذی خلق) میں سجدہ کیا۔
زمین مردے اگل دے گی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہوگا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی۔ حدیث میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر انسان کو صرف دو قدم ٹکانے کی جگہ ملے گی سب سے پہلے مجھے بلایا جائیگا حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب ہوں گے اللہ کی قسم اس سے پہلے اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا تو میں کہوں گا اللہ جبرائیل نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ تیرے بھیجے ہوئے میرے پاس آتے ہیں اللہ فرمائے گا سچ کہا تو میں کہوں گا اللہ پھر مجھے شفاعت کی اجازت ہو چنانچہ مقام محمود میں کھڑا ہو کر میں شفاعت کروں گا اور کہوں گا کہ اللہ تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشتے گوشتے پر تیری عبادت کی ہے (ابن جریر) پھر فرماتا ہے کہ زمین اپنے اندر کے کل مردے اگل دے گی اور خالی ہو جایئگی یہ بھی رب کے فرمان کی منتظر ہوگی اور اسے بھی یہی لائق ہے پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان تو کوشش کرتا رہیگا اور اپنے رب کی طرف آگے بڑھتا رہیگا اعمال کرتا رہیگا یہاں تک کہ ایک دن اس سے مل جائیگا اور اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور اپنے اعمال اور اپنی سعی و کوشش کو اپنے سامنے دیکھ لے گا ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جی لے جب تک چاہے بالآخر موت آنے والی ہے جس سے چاہ و دل بستگی پیدا کر لے ایک دن اس سے جدائی ہونی ہے جو چاہے عمل کر لے ایک دن اس کی ملاقات ہونے والی ہے ، ملاقیہ کی ضمیر کا مرجع بعض نے لفظ رب کو بھی بتایا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے تیری ملاقات ہونے والی ہے وہ تجھے تیرے کل اعمال کا بدلہ دے گا اور تیری تمام کوشش و سعی کا پھل تجھے عطا فرمائے گا دونوں ہی باتیں آپس میں ایک دوسری کو لازم و ملزوم ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم تو کوشش کرنے والا ہے لیکن اپنی کوشش میں کمزور ہے جس سے یہ ہو سکے کہ اپنی تمام تر سعی و کوشش نیکیوں کی کرے تو وہ کر لے دراصل نیکی کی قدرت اور برائیوں سے بچنے کی طاقت بجز امداد الٰہی حصال نہیں ہو سکتی ۔ پھر فرمایا جس کے داہنے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ مل جائیگا اس کا حساب سختی کے بغیر نہایت آسانی سے ہوگا اس کے چھوٹے اعمال معاف بھی ہو جائیں گے اور جس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لیا جائیگا وہ ہلاکت سے نہ بچے گا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرماتے ہیں کہ جس سے حساب کا مناقشہ ہوگا وہ تباہ ہوگا تو حضرت عائشہ نے فرمایا قرآن میں تو ہے کہ نیک لوگوں کا بھی حساب ہوگا آیت ( فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا ۙ) 84- الانشقاق:8) آپ نے فرمایا دراصل یہ وہ حساب نہیں یہ تو صرف پیشی ہے جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہوگی وہ برباد ہوگا (مسند احمد) دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیان فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی اپنے ہاتھ پر رکھ کر جس طرح کوئی چیز کریدتے ہیں اس طرح اسے ہلا جلا کر بتایا مطلب یہ ہے کہ جس سے باز پرس اور کرید ہوگی وہ عذاب سے بچ نہیں سکتا خود حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جس سے باقاعدہ حساب ہوگا وہ تو بےعذاب پائے نہیں رہ سکتا اور حساب یسیر سے مراد صرف پیشی ہے حالانکہ اللہ خوب دیکھتا رہا ہے حضرت صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا کہ آپ نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے دعا (اللھم حاسبنی حسابا یسیرا) جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا صرف نامہ اعمال پر نظر ڈال لی جائیگی اور کہہ دیا جائیگا کہ جاؤ ہم نے درگذر کیا لیکن اے عائشہ جس سے اللہ حساب لینے پر آئے گا وہ ہلاک ہوگا (مسند احمد) غرض جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال آئیگا وہ اللہ کے سامنے پیش ہوتے ہی چھٹی پا جائے گا اور اپنے والوں کی طرف خوش خوش جنت میں واپس آئیگا ، طبرانی میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرماتے ہیں تم لوگ اعمال کر رہے ہو اور حقیقت کا علم کسی کو نہیں عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے اعمال کو پہچان لو گے بعض وہ لوگ ہوں گے جو ہنسی خوشی اپنوں سے آ ملیں گے اور بعض ایسے ہوں کہ رنجیدہ افسردہ اور ناخوش واپس آئیں گے اور جسے پیٹھ پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ہاتھ موڑ کر نامہ اعمال دیا جائیگا وہ نقصان اور گھاٹے کی پکار پکارے گا ہلاکت اور موت کو بلائے گا اور جہنم میں جائیگا دنیا میں خوب ہشاش بشاش تھا بےفکری سے مزے کر رہا تھا آخرت کا خوف عاقبت کا اندیشہ مطلق نہ تھا اب اس کو غم و رنج، یاس محرومی و رنجیدگی اور افسردگی نے ہر طرف سے گھیر لیا یہ سمجھ رہا تھا کہ موت کے بعد زندگی نہیں ۔ اسے یقین نہ تھا کہ لوٹ کر اللہ کے پاس بھی جانا ہے پھر فرماتا ہے کہ ہاں ہاں اسے اللہ ضرور دوبارہ زندہ کر دے گا جیسے کہ پہلی مرتبہ اس نے اسے پیدا کیا پھر اس کے نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دے گا بندوں کے اعمال و احوال کی اسے اطلاع ہے اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔