Say, "He is Allah, [who is] One,
کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے
[قُلْ: کہدیجئے][ هُوَ: وہ][ اللّٰهُ: اللہ][ اَحَدٌ : ایک]
شان نزول اور فضیلت کا بیان ٭٭ مسند احمد میں ہے کہ مشرکین نے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہا اپنے رب کے اوصاف بیان کرو اس پر یہ سورت نازل ہوئی، صمد کے معنی ہیں جو نہ تو پیدا ہوا ہو نہ اس کی اولاد ہو، اس لئے کہ جو پیدا ہوا ہے وہ ایک وقت مرے گا بھی اور دوسرے اس کے وارث ہوں گے اللہ عزوجل نہ مرے نہ اس کا کوئی وارث ہو اس جیسا اور اس کی جنس کا کوئی نہیں نہ اس کے مثل کوئی چیز ہے۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے، ابو یعلی موصلی میں بھی ہے کہ ایک اعرابی نے یہ سوال کیا تھا، اور روایت میں ہے کہ مشرکین کے اس سوال کے جواب میں یہ سورت اتری، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں ہر چیز کی نسبت ہے اور اللہ کی نسبت یہ سورت ہے، صمد اسے کہتے ہیں جو کھلا کھلا نہ ہو، بخاری شریف کتاب التوحید میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک چھوٹا سا لشکر کہیں بھیجا جس وقت وہ پلٹے تو انہوں نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم پر جسے سردار بنایا تھا وہ ہر نماز کی قرأت کے خاتمہ پر سورۃ قل ھواللہ الخ، پڑھا کرتے تھے آپ نے فرمایا ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے، پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ یہ سورت رحمان کی صفت ہے مجھے اس کا پڑھنا بہت ہی پسند ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا انہیں خبر دو کہ اللہ بھی اس سے محبت رکھتا ہے، بخاری شریف کتاب الصلوۃ میں ہے کہ ایک انصاری مسجد قبا کے امام تھے ان کی عادت تھی کہ الحمد ختم کر کے پھر اس سورت کو پڑھتے پھر جونسی سورت پڑھنی ہوتی یا جہاں سے چاہتے قرآن پڑھتے، ایک دن مقتدیوں نے کہا کہ آپ اس سورت کو پڑھتے پھر دوسری سورت ملاتے ہیں یا تو آپ صرف اسی کو پڑھئے یا چھوڑ دیجئے دوسری سورت ہی پڑھا کیجئے انہوں نے جواب دیا کہ میں تو جس طرح کرتا ہوں کرتا رہوں گا تم چاہو تو مجھے امام رکھو کہو تو میں تمہاری امامت چھوڑ دوں، اب انہیں یہ بات بھاری پڑی جانتے تھے کہ ان سب میں یہ زیادہ افضل ہیں ان کی موجوگدی میں دوسیر کا نماز پڑھانا بھی انہیں گوارا نہ ہو سکا، ایک دن جبکہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے پاس تشریف لائیت و ان لوگوں نے آپ سے یہ واقعہ بیان کیا، آپ نے امام صاحب سے کہا تم کیوں اپنے ساتھیوں کی بات نہیں مانتے اور ہر رکعت میں اس سورت کو کیوں پڑھتے ہو؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے اس سورت سے بڑی محبت ہے آپ نے فرمایا اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا، ترمذی اور مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آپ سے کہا میں اس سورت سے بہت محبت رکھتا ہوں آپ نے فرمایا اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا، ایک شخص نے کسی کو اس سورت کو پڑھتے ہوئے رات کے وقت سنا کہ وہ بار بار اسی کو دوہرا رہا ہے۔ صبح کے وقت آکر اس نے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ذکر کیا گویا کہ وہ اسے ہلکے ثواب کا کام جانتا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ سورت مثل تہائی قرآن کے ہے (بخاری) صحیح بخاریشریف کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لو تو یہ صحابہ بھاری پڑا اور کہنے لگے بھلا اتنی طاقت تو ہر ایک میں نہیں آپ نے فرمایا سنو سورۃ قل ہو اللہ تہائی قرآن ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضرت قتادہ بن نعمان (رض) ساری رات اسی سورت کو پڑھتے رہے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے جب ذکر کیا گیا تو آپ نے قسم کا کر فرمایا کہ یہ آدھے قرآن یا تہائی قرآن کے برابر ہے، ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کو اس کیطات ہے کہ وہ ہر رات تیسرا حصہ قرآن کا پڑھ لیا کرے، صحابہ کہنے لگے یہ کس سے ہو سکے گا ؟ آپ نے فرمایا سنو قل ھو اللہ احد الخ، تہائی قرآ نکے برابر ہے، اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی آ گئے آپ نے سن لیا اور فرمایا ابو ایوب سچ کہتے ہیں (مسند احمد) ترمذی میں ہے کہ رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صحابہ سے فرمایا جمع ہو جاؤ میں تمیں آج تمہائی قرآن سناؤں گا لوگ جمع ہو کر بیٹھ گئے۔ آپ گھر سے آئے سورۃ قل ھو اللہ احد الخ، پڑھی اور پھر گھر چلے گئے اب صحابہ میں باتیں ہونے لگیں کہ وعدہ تو حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا یہ تھا کہ تہائی قرآن سنائیں گے شاید آسمان سے کوئی وحی آ گئی ہو ۔ اتنے میں آپ پھر واپس آئے اور فرمایا میں نے تم سے تہائی قرآن سنانے کا وعدہ کیا تھا، سنو یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔ حضرت ابو الدرداء (رض) کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کیا تم اس سے عاجز ہو کہ ہر دن تہائی قرآن شریف پڑھ لیا کرو لوگوں نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم اس سے بہت عاجز اور بہت ضعیف ہیں، آپ نے فرمایا سنو اللہ تعایٰ نے قرآن کے تین حصے کئے ہیں، قل ھو اللہ احد الخ، تیسرا حصہ ہے (مسلم نسائی وغیرہ) ایسی ہی روایتیں صحابہ کرام کی ایک بہت بڑی جماعت سے مروی ہیں ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک مرتبہ کہیں سے آ رہے تھے آپ کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) تھے تو آپ نے ایک شخص کو اس سورت کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر فرمایا واجب ہو گئی، حضرت ابوہریرہ (رض) تھے تو آپ نے ایک شخص کو اس سورت کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر فرمایا واجب ہو گئی، حضرت ابوہریرہ نے پوچھا کیا واجب ہو گئی؟ فرمایا جنت (ترمذی و نسائی) ابو یعلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے کیا تم میں سے کوئی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ سورۃ قل ھو اللہ الخ کو رات میں تین مرتبہ لے؟ یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے، مسند احمد میں ہے عبداللہ بن حبیب (رض) فرماتے ہیں کہ ہم پیاسے تھے رات اندھیری تھے، حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا انتظار تھا کہ آپ تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں ۔ آپ آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے پڑھ۔ میں چپکا رہا، آپ نے پھر فرمایا پڑھ۔ میں نے کہا کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا ہر صبح شام تین تین مرتبہ سورۃ قل ھو اللہ احد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ لیا کہ یہ کافی ہو جائے گا۔ نسائی کی ایک روایت میں ہے ہر چیز سے تجھے یہ کفایت کرے گی، مسند کی ایک اور ضعیف حدیث میں ہے جس نے ان کلمات کو دس مرتبہ پڑھ لیا اسے چالیس لاکھ نیکیاں ملتی ہیں وہ کلمات یہ ہیں
ان کے راوی خلیل بن مرہ ہیں جنہیں حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ وغیرہ بہت ضعیف بتلاتے ہیں، مسند احمد میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرماتے ہیں جو شصخ اس پوری سورت کو دس مرتبہ پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک محل تعمیر کرے گا۔ حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پھر تو ہم بہت سے محل بنوا لیں گے۔ آپ نے فرمایا اللہ اس سے بھی زیادہ اور اس سے بھی اچھے دینے والا ہے۔ دارمی میں ہے کہ دس مرتبہ پر ایک محل، بیس پر دو، تیس پر تین، یہ حدیث مرسل ہے۔ ابو یعلی موصلی کی ایک ضعیف حدیث ہے کہ جو شخص اس سورت کو پچاس مرتبہ پڑھ لے اس کے پچاس سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اسی کی ایک اور ضعیف سند والی حدیث میں ہے کہ جو شخص اس سورت کو ایک دن میں دو سو مرتبہ پڑھ لے اس کے لئے ایک ہزار پانچ سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں بشرطیکہ اس پر قرض نہ ہو، ترمذی کی اس حدیث میں دو سو مرتبہ پڑھ لے اس کے لئے ایک ہزار پانچ سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں بشرطیکہ اس پر قرض نہ ہو، ترمذی کی اس حدیث میں ہے کہ اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کئے جاتے ہیں مگر یہ کہ اس پر فرض ہو، ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے جو شخص سونے کے لئے اپنے بستر پر جائے پھر داہنی کروٹ لیٹ کر سو دفعہ اس سورت کو پڑھ لے تو قیامت کے دن رب عزوجل فرمائے گا۔ اے میرے بندے اپنی داہنی طرف سے جنت میں چلا جا۔ بزار کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں ہے جو شخص اس سورت کو دو سو مرتبہ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے دو سو سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے، نسائی شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں آئے تو دیکھا کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے دعا مانگ رہا ہے اپنی دعا میں کہتا ہے
یعنی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بات کی گواہی دے کر کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے بےنیاز ہے نہ اس کے ماں باپ نہ اولاد نہ ہمسر اور ساتھی کوئی اور آپ یہ سن کر فرمانے لگے اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے اسم اعظم کے ساتھ دعا مانگی ہے اللہ کے اس بڑے نام کے ساتھ کہ جب کبھی اس نام کے ساتھ سوال کیا جائے تو عطا ہو اور جب کبھی اس نام کے ساتھ دعا کی جائے تو قبول ہو ۔ ابو یعلی میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرماتے ہیں تین کام ہیں جو انہیں ایمان کے ساتھ کر لے وہ جنت کے تمام دروازوں میں سے جس سے چاہے جنت میں چلا جائے اور جس کسی حور جنت سے چاہے نکاح کرا دیا جائے۔ جو اپنے قاتل کو معاف کر دے اور پوشیدہ قرض ادا کر دے اور ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ سورۃ قل ھو اللہ احد الخ، کو پڑھ لے ۔ حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جو ان تینوں کاموں میں سے ایک کر لے آپ نے فرمایا کی پر بھی یہی درجہ ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرماتے ہیں جو شخص اس سورت کو گھر میں جاتے وقت پڑھ لے اللہ تعالیٰ اس گھر والوں سے اور اس کے پڑوسیوں سے فقیری دور کر دے گا، اس کی اسناد ضعیف ہے۔ مسند ابو یعلی میں ہے حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ میدان تبوک میں تھے سورج ایسی روشنی نور اور شعاعوں کے ساتھ نکلا کہ ہم نے اس سے پہلے ایسا صاف شفاف اور روشن و منور نہیں دیکھا تھا حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تو حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دریافت فرمایا کہ آج سورج کی اس تیز روشنی اور زیادہ نور اور چمکیلی شعاعوں کی کیا وجہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا آج مدینہ میں حضرت معاویہ بن معاویہ لیثی (رض) کا انتقال ہو گیا ہے جن کے جنازے کی نماز کے لئے اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتے آسمان سے بھیجے ہیں پوچھا ان کے کس عمل کے باعث ؟ فرمایا وہ سورۃ قل ھو اللہ احد کو دن رات چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے پڑھا کرتے تھے اگر آپ کا ارادہ ہو تو زمین سمیٹ لوں اور آپ ان کے جنازے کی نماز ادا کرلیں؟ آپ نے فرمایا بہت اچھا پس آپ نے ان کے جنازے کی نماز ادا کی۔ اس حدیث کو حافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ بھی اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں یزید بن ہارون کی روایت سے لائے ہیں وہ علاء بن محمد سے روایت کرتے ہیں ۔ ان پر موضوع حدیثیں بیان کرنے کی تہمت ہے، واللہ اعلم۔ مسند ابو یعلی میں اس کی دوسری سند بھی ہے جس میں یہ راوی نہیں ۔ اس میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ معاویہ بن معاویہ یشی (رض) کا انتقال ہو گیا ہے کہ کیا آپ ان کے جنازے کی نماز پڑھنا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں حضرت جبرائیل نے اپنا پر زمین پر مارا تمام درخت اور سب ٹیلے وغیرہ پست ہوگئے ان کا جنازہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نظر آنے لگا آپ نے نماز شروع کی اور آپ کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے آپ نے دریفات کیا کہ آخر اس مرتبہ کی کیا وجہ ہے؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا ان کی سورت سے محبت اور ہر وقت آتے جاتے بیٹھتے اٹھتے اس کی تلاوت، اسے بیہقی نے بھی روایت کیا ہے، اور بیہقی کی سند میں محبوب بن ہلال ہیں ۔ ابو حاتم رازی فرماتے ہیں یہ مشہور نہیں، ابو یعلی میں یہ راوی نہیں وہاں ان کی جگہ ابو عبداللہ محمود ہیں، لیکن ٹھیک بات محبوب کا ہونا ہے، اس روایت کی اور بھی بہت سی سندیں ہیں اور سب ضعیف ہیں، ہم نے اختصار کے لئے انہیں یہاں نقل نہیں کیا، مسند احمد میں ہے حضرت عقبہ بن عامر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک روز میری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ملاقات ہوئی میں نے جلدی سے آپ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) مومن کی نجات کس عمل پر ہے؟ آپ نے فرمایا اے عقبہ زبان تھامے رکھ اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہا کہ اور اپنی خطاؤں پر روتا رہ، پھر دوبارہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے خود میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا عقبہ! کیا میں تمہیں توراۃ انجیل، زبور اور قرآن میں اتری ہوئی تمام سورتوں سے بہترین سورتیں بتاؤں؟ میں نے کہا ہاں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) ضرور ارشاد فرمایئے، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے پس آپ نے مجھے سورۃ اعوذ برب الفلق اور اعوذ برب الناس پڑھائیں پھر فرمایا دیکھو عقبہ! انہیں نہ بھولنا اور ہر رات انہیں پڑھ لیا کرنا۔ فرماتے ہیں پھر نہ میں انہیں بھولا اور نہ کوئی رات ان کے پڑھے بغیر گذاری، میں نے پھر آپ سے ملاقات کی اور جلدی کر کے آپ کے دست مبارک کو اپنے ہاتھ میں لے کر عرض کی کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے بہترین اعمال کا ارشاد فرمایئے آپ نے فرمایا سن جو تجھ سے توڑے تو اس سے جوڑ، جو تجھے محروم رکھے تو اسے دے، جو تجھ پر ظلم کرے تو اس سے درگزر کر اور معاف کر دے، اس کا بعض حصہ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی زہد کے باب میں وارد کیا ہے اور فرمایا ہے یہ حدیث حسن ہے۔ مسند احمد میں بھی اس کی ایک اور سند ہے، صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) رات کے وقت جب بستر پر جاتے تو ہر رات تینوں سورتوں کو پڑھ کر اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان پر دم کر کے اپنے جسم مبارک پر پھیر لیا کرتے جہاں تک ہاتھ پہنچتے پہنچاتے، پہلے سر پر، پھر منہ پر، پھر اپنے سامنے کے جسم پر تین مرتبہ اسی طرح کرتے ، یہ حدیث سنن میں بھی ہے۔
اپنی حکمت و تدبر میں وحدہ لا شریک ٭٭ اس کے نازل ہونے کی وجہ پہلے بیان ہو چکی ہے، حضرت عکرمہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے ہم حضرت عزیز کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور نصرانی کہتے تھے ہم حضرت مسیح کو پوجتے ہیں جو اللہ کے بیٹے ہیں اور مجوسی کہتے تھے ہم سورج چاند کی پرستش کرتے ہیں اور مشرک کہتے تھے ہم بت پرست ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری کہ اے نبی تم کہہ دو کہ ہمارا معبود تو اللہ تعالیٰ ہے جو واحد اور احد ہے جس جیسا کوئی نہیں جس کا کوئی وزیر نہیں جس کا کوئ شریک نہیں جس کا کوئی ہمسر نہیں جس کا کوئی ہم جنس نہیں جس کا برابر اور کوئی نہیں جس کے سوا کسی میں الوہیت نہیں ۔ اس لفظ کا اطلاق صرف اسی کی ذات پاک پر ہوتا ہے وہ اپنی صفتوں میں اور اپنے حکمت بھرے کاموں میں یکتا اور بےنظیر ہوتا ہے۔ وہ صمد ہے یعنی ساری مخلوق اس کی محتاج ہے اور وہ سب سے بےنیاز ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ صمد وہ ہے جو اپنی سرداری میں، اپنی شرافت میں، اپنی بندگی اور عظمت میں، اپنے علم و علم میں، اپنی حکمت و تدبر میں سب سے بڑھا ہوا ہے۔ یہ صفتیں صرف اللہ تعالیٰ جل شانہ میں ہی پائی جاتی ہیں ۔ اس کا ہمسر اور اس جیسا کوئی اور نہیں وہ اللہ سبانہ و تعالیٰ سب پر الب ہے اور اپنی ذات و صفات میں یکتا اور بینظیر ہے، صمد کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جو تمام مخلوق کے فنا ہو جانے کے بعد بھی باقی رہے، جو ہمیشہ کی بقا والا سب کی حفاظت کرنے والا ہو جس کی ذات لازول اور غیر فانونی ہو ۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں صمد وہ ہے جو نہ کچھ کھائے نہ اس میں سے کچھ نکلے۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ صمد کی تفسیر اس کے بعد ہے یعنی نہ اس میں سے کچھ نکلے نہ وہ کسی میں سے نکلے یعنی نہ اس کی اولاد ہو نہ ماں باپ، یہ تفسیر بہت اچھی اور عمدہ ہے اور ابن جریر کی روایت سے حضرت ابی بن کعب سے صراحتاً یہ مروی ہے جیسے کہ پہلے گذرا اور بہت سے صحابہ اور تابعین سے مروی ہے کہ صمد کہتے ہیں ٹھوس چیز کو جو کھوکھلی نہ ہو جس کا پیٹ نہ ہو ۔ شعبی کہتے ہیں جو نہ کھاتا ہو نہ پیتا ہو، عبداللہ بن بریدہ فرماتے ہیں صمد وہ نور ہے جو روشن ہو اور چمک دمک والا ہو، ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ صمد میں ہے جس کا پیٹ نہ ہو، لیکن اس کا مرفوع ہونا ٹھیک نہیں، صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ حافظ ابو القاسم طبراین رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب "السنہ" میں لفظ صمد کی تفسیر میں ان تمام اقوال وغیرہ کو وارد کر کے لکھتے ہیں کہ درصال یہ سب سچے ہیں اور صحیح ہیں ۔ کل صفتیں ہمارے رب عزوجل میں ہیں اس کی طرف سب محتاج بھی ہیں وہ سب سے بڑھ کر سردر اور سب سے بڑا ہے اسے نہ پیٹ ہے نہ وہ کھوکھلا ہے نہ وہ کھائے نہ پئے سب فانی ہے اور وہ باقی ہے وغیرہ۔ پھر فرمایا اس کی اولاد نہیں نہ اس کے ماں باپ ہیں نہ بیوی۔ جیسے اور جگہ ہے
یعنی وہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اسے اولاد کیسے ہو گی؟ اس کی بیوی نہیں ہر چیز کو اسی نے پیدا کیا ہے: یعنی وہ ہر چیز کا خلاق مالک ہے پھر اس کی مخلوق اور ملکیت میں سے اس کی برابری اور ہمسری کرنے والا کون ہوگا ؟ وہ ان تمام عیوب اور نقصان سے پاک ہے جیسے اور جگہ فرمایا وقالو اتحذا الرحمٰن ولدا الخ، یعنی یہ کفار کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے تم تو ایک بڑی بری چیز لائے قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں، اس بنا پر کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ اللہ کو یہ لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو تمام زمین و آسمان میں کے کل کے کل اللہ کے غلام ہی بن کر آنے والے ہیں اللہ کے پاس تمام کا شمار ہے اور انہیں ایک ایک کر کے گن رکھا ہے اور یہ سب کے سب تنہا تنہا اس کے پاس قیامت کے دن حاضر ہونے والے ہیں اور جگہ ہے ( وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَـدًا سُبْحٰنَهٗ ۭ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ 26ۙ) 21- الأنبياء:26) ، یعنی ان کافروں نے کہا کہ رحمان کی اولاد ہے اللہ اس سے پاک ہے بلکہ وہ تو اللہ کے باعزت بندے ہیں بات میں بھی اس سے سبقت نہیں کرتے اسی کے فرمان پر عامل ہیں اور جگہ ہے وجعلوا بینہ وبین الجنتہ نسبتاً الخ، یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اور جنات کے درمیان نسب قائم کر رکھا ہے حالانکہ جنات تو خود اس کی فرمانبرداری میں حاضر ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بیان کردہ عیوب سے پاک و برتر ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایذاء دینے والی باتوں کو سنتے ہوئے صبر کرنے میں اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں اور پھر بھی وہ انہیں روزیاں دیتا ہے اور عافیت و تنگ دستی عطا فرماتا ہے۔ بخاری کی اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہ چاہئے مجھے گالیاں دیتا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہ تھا اس کا مجھے جھٹلاتا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے جس طرح اولاً اللہ نے مجھے پیدا کیا ایسے ہی پھر نہیں لوٹائے گا حالانکہ پہلی مرتبہ کی پیدائش دوسری مرتبہ کی پیدائش سے کچھ آسان تو نہ تھی جب میں اس پر قادر ہوں تو اس پر کیوں نہیں؟ اور اس کا مجھے گالیاں دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں تنہا ہوں میں ایک ہی ہوں میں صمد ہوں نہ میری اولاد نہ میرے ماں باپ نے مجھ جیسا کوئی اور احلمد اللہ سورۃ اخلاص کی تفسیر اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے ختم ہوئی۔