Say, "I seek refuge in the Lord of daybreak
کہو کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
[قُلْ: کہدیجئے][ اَعُوْذُ: میں پناہ میں آتا ہوں][ بِرَبِّ: رب کی][ الْفَلَقِ: صبح]
مضبوط پناہ گاہیں ناقابل تسخیر مدافعت اور شافی علاج ٭٭ مسند احمد میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اس سورت کو اور اس کے بعد کی سورت کو قرآن شریف میں نہیں لکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میری گواہی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے خبر دی کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے فرمایا قل اعوذ برب الفلق الخ، تو میں نے بھی یہی کہا۔ پھر کہا قل اعوذ برب الناس الخ، تو میں نے یہی کہا پس ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہا، حضرت ابی بن کعب (رض) سے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہا آپ کے بھائی حضرت ابن مسعود تو ان دونوں کو قرآن شریف میں سے کاٹ دیا کرتے تھے تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا مجھ سے کہا گیا کہو میں نے کہا پس ہم بھی کہتے ہیں جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہا (ابوبکر حمیدی) مسند میں بھی یہ روایت الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ مروی ہے، اور بخاری شریف میں بھی، مسند ابو یعلی وغیرہ میں ہے کہ ابن مسعود ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے اور نہ قرآن میں انہیں شمار کرتے تھے، بلکہ قاریوں اور فقہیوں کے نزدیک مشہور بات یہی ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) ان دونوں سورتوں کو قرآن میں نہیں لکھتے تھے، شاید انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) سے نہ سنا ہو اور تواتر کے ساتھ ان تک نہ پہنچا ہو، پھر یہ اپنے اس قول سے رجوع کر کے جماعت کے قول کی طرف پلٹ آتے ہیں، صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان سورتوں کو ائمہ کے قرآن میں اخل کیا جس کے نسخے چاروں طرف پھیلے، وللہ الحمد والمنہ صحیح مسلم شریف میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰعنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کیا تم نے نہیں دیکھا چند آیتیں مجھ پر اس رات ایسی نازل ہوئی ہیں جن جیسی کبھی دیکھی نہیں گئیں، پھر آپ نے ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی، یہ حدیث مسند احمد، ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں ۔ مسند احمد میں ہے حضرت عقبہ ہیں میں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں آپ کی سواری کی نکیل تھامے چلا جا رہا تھا کہ آپ نے مجھ سے فرمایا، اب آؤ تم سوار ہو جاؤ میں نے اس خیال سے آپ کی بات نہ مانوں گا تو نافرماین ہوگی سوار ہونا منظور کر لیا تھوڑی دیر کے بعد میں اتر گیا اور حضور سوار ہوگئے پھر آپ نے فرمایا عقبہ میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟ میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ضرور سکھایئے۔ پس آپ نے مجھے سورۃ قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھائیں پھر نماز کھڑی ہوئی آپ نے نماز پڑھائی اور ان ہی دونوں سورتوں کی تلاوت کی پھر مجھ سے فرمایا تو نے دیکھ لیا ؟ سن جب تو سوئے اور جب کھڑا ہوا نہیں پڑھ لیا کر، ترمذی ابو داؤد اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے۔ مسند احمد کی اور حدیث میں ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہر نماز کے بعد ان سورتوں کی تلاوت کا حکم دیا۔ یہ حدیث بھی ابو داؤد، ترمذی اور نسائی میں ہے امام ترمذی اسے غریب بتلاتے ہیں اور روایت میں ہے کہ ان جیسی سورتیں تو نے پڑھی ہی نہیں، حضرت عقبہ والی حدیث جس میں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سواری کے ساتھ آپ کا ہونا مذکور ہے اس کے بعض طرق میں یہ بھی ہے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے یہ سورتیں بتائیں تو مجھے کچھ زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھ کر فرمایا کہ شاید تو انہیں چھوٹی سی سورتیں سمجھتا ہے سن نماز کے قیام میں ان جیسی سورتوں کی قرأت اور ہے ہی نہیں ۔ نسائی شریف کی حدیث میں ہے کہ ان جیسی سورتیں کسی پناہ پکڑنے والے کے لئے اور نہیں ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عقبہ سے یہ سورتیں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پڑھائیں پھر فرمایا نہ تو دعا کی ان جیسی اور سورتیں ہیں نہ تعویذ کی ، ایک روایت میں ہے صبح کی فرض نماز حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان ہی دونوں سورتوں سے پڑھائی، اور حدیث میں ہے حضرت عقبہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سواری کے پیچھے جاتے ہیں اور آپ کے قدم پر ہاتھ رکھ کر عرض کرتے ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے سورۃ ہود یا سورۃ یوسف پڑھائے آپ نے فرمایا اللہ کے پاس نفع دینے والی کوئی سورت قل اعوذ برب الفلق سے زیادہ نہیں اور حدیث میں ہے کہ آپ نے اپنے چچا حضرت عباس (رض) سے فرمایا میں تمہیں بتاؤں کہ پناہ حاصل کرنے والوں کے لئے ان دونوں سورتوں سے افضل سورت اور کوئی نہیں، پس بہت سی حدیثیں اپنے تواتر کی وجہ سے اکثر علماء کے نزدیک قطعبیت کا فائدہ دیتی ہیں اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی کہ آپ نے ان دونوں سورتوں اور سورۃ اخلاص کی نسبت فرمایا کہ چاروں کتابوں میں ان جیسی سورتیں نہیں اتریں، نسائی وغیرہ میں ہے کہ ہم حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے سواریاں کم تھیں باری باری سوار ہوتے تھے حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک شخص کے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر یہ دونوں سورتیں پڑھائیں اور فرمایا جب نماز پڑھو تو انہیں پڑھا کرو، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص حضرت عقبہ بن عامر ہوں گے، واللہ اعلم۔ حضرت عبداللہ بن سلام کے سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ نہیں سمجھے؟ وہ نہ سمجھے کہ کیا کہیں تو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سورۃ قل ھو اللہ پڑھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اسی طرح پناہ مانگا کر۔ اس جیسی پناہ مانگنے کی اور سورت نہیں (نسائی) نسائی کی اور حدیث میں ہے کہ حضرت جابر سے یہ دونوں سورتیں آپ نے پڑھوائیں پھر فرمایا انہیں پڑھتا رہ ان جیسی سورتیں تو اور پڑھے گا، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی وہ حدیث پہلے گذر چکی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) انہیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر ھپونک کر اپنے سر چہرے اور سامنے کے جسم پر پھیر لیتے تھے، موطامالک میں ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) بیمار پڑتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیا کرتے تھے جب آپ کی بیماری سخت ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا معوذات پڑھ کر خود آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہاتھوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جسم مبارک پر پھیرتی تھیں اس عمل کا مقصد آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہاتھوں کی برکت کا ہوتا تھا سورۃ ن کی تفسیر کے آخر میں یہ حدیث گذر چکی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جنات کی اور انسانوں کی آنکھوں سے پناہ مانگا کرتے تھے جب یہ دونوں سورتیں اتریں تو آپ نے انہیں لے لیا اور باقی سب چھوڑ دیں، امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں ۔
بیماری، وبا، جادو اور ان دیکھی بلاؤں سے باؤ کی دعا٭٭ حضرت جابر وغیرہ فرماتے ہیں فلق کہتے ہیں صبح کو، خود قرآن میں نور جگہ ہے فالق الاصباح ابن عباس سے مروی ہے فلق سے مراد مخلوق ہے، حضرت کعب احبار فرماتے ہیں فلق جہنم میں ایک جگہ ہے جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو اس کی آگ گرمی اور سختی کی وجہ سے تمام جہنمی چیخنے لگتے ہیں ۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ لیکن وہ حدیث منکر ہے۔ یہ بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جہنم کا نام ہے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی مراد اس سے صبح ہے۔ امام بخاری بھی یہی فرماتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ تمام مخلوق کی برائی سے جسم میں جہنم بھی داخل ہے اور ابلیس اور اولاد ابلیس بھی ۔ غاسق سے مراد رات ہے۔ اذا وقت یس مراد سورج کا غروب ہو جانا ہے، یعنی رات جب اندھیرا لئے ہوئے آ جائے، ابن زید کہتے ہیں کہ عرب ثریا ستارے کے غروب ہونے کو غاسق کہتے ہیں ۔ بیماریاں اور وبائیں اس کے واقع ہونے کے وقت بڑھ جاتی تھیں اور اس کے طلوع ہونے کے وقت اٹھ جاتی تھیں ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ستارہ غاسق ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں، بعض مفسرین کہتے ہیں مراد اس سے چاند ہے، ان کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہاتھ تھامے ہوئے چاند کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اللہ تعالیٰ سے اس غاسق کی برائی سے پناہ مانگ اور روایت میں ہے کہ غاسق اذا وقب سے یہی مراد ہے، دونوں قولوں میں با آسانییہ تطبیق ہو سکتی ہے کہ چاند کا چڑھنا اور ستاروں کا ظاہر ہونا وغیرہ، یہ سب رات ہی کے وقت ہوتا ہے جب رات آ جائے، واللہ اعلم۔ گرہ لگا کر پھونکنے والیوں سے مراد جادوگر عورتیں ہیں، حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں شرک کے بالکل قریب وہ منتر ہیں نہیں پڑھ کر سانپ کے کاٹے پر دم کیا جاتا ہے اور آسیب زدہ پر ۔ دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہا کیا آپ بیمار ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی
یعنی اللہ تعالیٰ کے نام سے میں دم کرتا ہوں ہر اس بیماری سے جو تجھے دکھ پہنچائے اور ہر حاسد کی برائی اور بدی سے اللہ تجھے شفا دے۔ اس بیماری سے مراد شاید وہ بیماری ہے جبکہ آپ پر جادو کیا گیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عافیت اور شفا بخشی اور حاسد یہودیوں کے جادوگر کے مکر کو رد کر دیا اور ان کی تدبیروں کو بےاثر کر دیا اور انہیں رسوا اور فضیحت کیا، لیکن باوجود اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کبھی بھی اپنے اوپر جادو کرنے والے کو ڈانٹا ڈپٹا تک نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کی اور آپ کو عافیت اور شفا عطا فرمائی۔ مسند احمد میں ہے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایک یہودی نے جادہ کیا جس سے کئی دن تک آپ بیمار رہے پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ فلاں یہودی نے آپ جادو کیا ہے اور فلاں فلاں کنوئیں میں گر ہیں لگا کر کر رکھا ہے آپ کسی کو بھیج کر اسے نکلوا لیجئے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے آدمی بھیجا اور اس کنوئیں سے وہ جادو نکلوا کر گر ہیں کھول دیں سارا اثر جاتا رہا پھر نہ تو آپ نے اس یہودی سے کبھی اس کا ذکر کیا اور نہ کبھی اس کے سامنے غصہ کا اظہار کیا، صحیح بخاری شریف کتاب الطب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر جادو کیا گیا آپ سمجھتے تھے کہا آپ ازواج مطہرات کے پاس آئے حالانکہ نہ آئے تھے، حضرت سفیان فرماتے ہیں یہی سب سے بڑا جادو کا اثر ہے، جب یہ حالت آپ کی ہو گئی ایک دن آپ فرمانے لگے عائشہ میں نے اپنے رب سے پوچھا اور میرے پروردگار نے بتا دیا دو شخص آئے ایک میری سرہانے ایک پائیتوں کی طرف، سرہانے والے نے اس دوسرے سے پوچھا ان کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ کہا عبید بن اعصم نے جو بنو رزیق کے قبیلے کا ہے جو یہود کا حلیف ہے اور منافق شخص ہے، کہا کس چیز میں؟ کہا تر کھجور کے درخت کی چھال میں پتھر کی چٹان تلے ذروان کے کنوئیں میں، پھر حضور صلی اللہ علیہ السلام اس کنوئیں کے پاس آئے اور اس میں سے وہ نکلوایا اس کا پانی ایسا تھا گویا مہندی کا گدلا پانی اس کے پاس کے کھجوروں کے درخت شیطانوں کے سر جیسے تھے ، میں نے کہا بھی کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) انسے بدلہ لینے چائے آپ نے فرمایا الحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تو شفا دے دی اور میں لوگوں میں برائی پھیلانا پسند نہیں کرتا، دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک کام کرتے نہ تھے اور اس کے اثر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کر چکا ہوں اور یہ بھی ہے کہ اس کنوئیں کو آپ کے حم سے بند کر دیا گیا، یہ بھی مروی ہے کہ چھ مہینے تک آپ کی یہی حالت رہی، تفسیر ثعلبی میں حضرت ابن عباس اور حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ یہود کا ایک بچہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت کیا کرتا تھا اسے یہودیوں نے بہکا سکھا کر آپ کے چند بال اور آپ کی کنگھی کے چند دندانے منگوا لئے اور ان میں جادو کیا اس کام میں زیادہ تر کوشش کرنے والا لبید بن اعصم تھا پھر ذرو ان نامی کنوئیں میں جو بنوزریق کا تھا اسے ڈال دیا پس حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) بیما ہوگئے سر کے بال جھڑنے لگے خیال آتا تھا کہ میں عورتوں کے پاس ہو آیا حالانکہ آتے نہ تھے گو آپ اسے دور کرنے کی کوشش میں تھے لیکن وجہ معلوم نہ ہوتی تھی چھ ماہ تک یہی حال رہا پھر وہ واقعہ ہوا جو اوپر بیان کیا کہ فرشتوں کے ذریعے آپ کو اس کا تمام حال علم ہو گیا اور آپ نے حضرت علی حضرت زبیر اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کو بھیج کر کنوئیں میں سے وہ سب چیزیں نکلوائیں ان میں ایک تانت تھی جس میں میں بارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں اور ہر گرہ پر ایک سوئی چبھی ہوئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں سورتیں اتاریں، حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک ایک آیت ان کی پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ اس کی خودبخود کھلتی جاتی تھی، جب یہ دونوں سورتیں پوری ہوئیں وہ سب گر ہیں کھل گئیں اور آپ بالکل شفایاب ہوگئے، ادھر جبرائیل علیہ السلام نے وہ دعا پڑھی جو اوپر گذر چکی ہے، لوگوں نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم اس خبیث کو پکڑ کر قتل کر دیں آپ نے فرمایا نہیں اللہ نے مجھے تو تندرستی دے دی اور میں لوگوں میں شر و فساد پھیلانا نہیں چاہتا۔ یہ روایت تفسیر ثعلبی میں بلا سند مروی ہے اس میں غربات بھی ہے اور اس کے بعض حصے میں سخت نکارت ہے اور بعض کے شواہد بھی ہیں جو پہلے بیان ہوچکے ہیں واللہ اعلم۔