سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾

(1 - الاَعلیٰ)

Qari:


Exalt the name of your Lord, the Most High,

(اے پیغمبر) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو

[سَبِّحِ : پاکیزگی بیان کر] [اسْمَ رَبِّكَ : اپنے رب کا نام] [الْاَعْلَى : سب سے بلند]

Tafseer / Commentary

صلوۃ وتر کی سورتیں ۔
اس سورت کے مکی ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے جو صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت ابن مکتوم آئے ہمیں قرآن پڑھانا شروع کیا پھر حضرت عمار حضرت بلال حضرت سعد آئے پھر حضرت عمر بن خطاب (رض) اپنے ساتھ بیس صحابیوں کو لے کر آئے میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز پر اس قدر خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنے اس پر خوش ہوئے یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچے اور نابالغ لڑکے بھی پکار اٹھے کہ یہ ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ تشریف لائے آپ کے آنے سے پہلے ہی میں نے یہ سورت سبح اسی جیسی اور سورتوں کے ساتھ یاد کر لی تھی ، مسند احمد میں ہے کہ یہ سورت حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بہت محبوب تھی بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) سے فرمایا کہ تو نے سورۃ آیت ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۝ ۙ) 87- الأعلى:1) کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھائی؟ مسند احمد میں مروی ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آیت ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۝ ۙ) 87- الأعلى:1) اور ( هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْجُــنُوْدِ 17؀ۙ) 85- البروج:17) دونوں عید کی نمازوں میں پڑھا کرتے تھے اور جمعہ والے دن اگر عید ہوتی تو عید میں اور جمعہ میں دونوں میں انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے ابو داؤد اور ترمذی اور نسائی میں بھی ہے ابن ماجہ وغیرہ میں بھی ہے مسند احمد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنا سے روایت ہے کہ وتر نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سوة الاعلى‘ الكافرون اور اخلاص پڑھتے تھے ایک روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ سورۃ معوذتین یعنی قل اعوذبرب الفلق اور قل اعوذ برب الناس بھی پڑھتے تھے یہ حدیث بھی بہت سے صحابیوں سے بہت سے طریق کے ساتھ مروی ہے ہمیں اگر کتاب کے طویل ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو ان سندوں کو اور ان تمام روایتوں کے الفاظ کو جہاں تک میسر ہوتے نقل کرتے لیکن جتنا کچھ اختصار کیساتھ بیان کر دیا یہ بھی کافی ہے واللہ اعظم۔

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی (رض) فرماتے ہیں کہ جب آیت ( فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 74۝ۧ) 56- الواقعة:74) اتری تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کر لو جب آیت ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۝ ۙ) 87- الأعلى:1) اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کر لو ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) آیت ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ۝ ۙ) 87- الأعلى:1) پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت (لا اقسم بیوم القیامۃ) پڑھتے اور آخری آیت ( اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى 40؀ۧ) 75- القيامة:40) پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک و بلی اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرماتا ہے اپنے بلندیوں والے پرورش کرنے والے اللہ کے پاک نام کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرو جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور سب کو اچھی ہیئت بخشی انسان کو سعادت شقاوت کے چہرے دکھا دئیے اور جانور کو چرنے چگنے وغیرہ کے سامان مہیا کیے جیسے اور جگہ ہے آیت (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى 50؀) 20- طه:50) یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر رہبری کی صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمین آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا جس نے ہر قسم کے نباتات اور کھیت نکالے پھر ان سرسبز چاروں کو خشک اور سیاہ رنگ کر دیا بعض عارفان کلام عرب نے کہا ہے کہ یہاں بعض الفاظ جو ذکر میں موخر ہیں معنی کے لحاظ سے مقدم ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ جس نے گھاس چارہ سبز رنگ سیاہی مائل پیدا کیا پھر اسے خشک کر دیا گویہ معنی بھی بن سکتے ہیں لیکن کچھ زیادہ ٹھیک نظر نہیں آتے کیونکہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہیں پھر فرماتا ہے کہ تجھے ہم اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے امام ابن جریر تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن ہم تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول ہاں جسے ہم خود منسوخ کر دیں اس کی اور بات ہے اللہ پر بندوں کے چھپے کھلے اعمال احوال عقائد سب ظاہر ہیں ہم تجھ پر بھلائی کے کام اچھی باتیں شرعی امر آسان کر دیں گے نہ اس میں کجی ہوگی نہ سختی نہ جرم ہوگا تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیے جیسے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آ سکیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہو جائیں گی بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں ۔ پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کریگا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے اور اس سے وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کر سکتا جو بد بخت ہو جو جہنم میں جانے والا ہو جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے نہ بھلی موت ہے بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں مسند احمد میں ہے کہ جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئیگی نہ کار آمد زندگی ملے گی ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مر جائیں گے پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے پھر نہر حیاۃ میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائیگا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد پھر ہرا لوگ کہنے لگے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے آیت ( وَنَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۭ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ 77؀) 43- الزخرف:77) یعنی جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دے دے جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو اور جگہ ہے آیت (لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ 36؀ۚ) 35- فاطر:36) یعنی نہ تو ان کی موت آئیگی نہ عذاب کم ہوں گے اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں ۔

Select your favorite tafseer