| Qari: |
You, [O Muhammad], may put aside whom you will of them or take to yourself whom you will. And any that you desire of those [wives] from whom you had [temporarily] separated - there is no blame upon you [in returning her]. That is more suitable that they should be content and not grieve and that they should be satisfied with what you have given them - all of them. And Allah knows what is in your hearts. And ever is Allah Knowing and Forbearing.
(اور تم کو یہ بھی اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو۔ اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ (اجازت) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو۔ اسے لے کر سب خوش رہیں۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا اسے جانتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور بردبار ہے
[تُرْجِيْ: دور رکھیں] [ مَنْ تَشَاۗءُ : جس کو آپ چاہیں] [مِنْهُنَّ : ان میں سے] [وَ تُـــــْٔوِيْٓ : اور پاس رکھیں] [اِلَيْكَ : اپنے پاس] [مَنْ تَشَاۗءُ ۭ : جسے آپ چاہیں] [وَمَنِ : اور جس کو] [ابْتَغَيْتَ : آپ طلب کریں] [مِمَّنْ : ان میں سے جو] [عَزَلْتَ : دور کردیا تھا آپ نے] [فَلَا جُنَاحَ : تو کوئی تنگی نہیں] [عَلَيْكَ ۭ : آپ پر] [ذٰلِكَ اَدْنٰٓى : یہ زیادہ قریب ہے] [اَنْ تَقَرَّ : کہ ٹھنڈی رہیں] [اَعْيُنُهُنَّ : ان کی آنکھیں] [وَلَا يَحْزَنَّ : اور وہ آزردہ نہ ہوں] [وَيَرْضَيْنَ : اور وہ راضی رہیں] [بِمَآ اٰتَيْتَهُنَّ : اس پر جو آپ نے انہیں دیں] [كُلُّهُنَّ ۭ : وہ سب کی سب] [وَاللّٰهُ : اور اللہ] [يَعْلَمُ : جانتا ہے] [مَا : جو] [فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ : تمہارے دلوں میں] [وَكَانَ : اور ہے] [اللّٰهُ : اللہ] [عَلِــيْمًا : جاننے والا] [حَلِــيْمًا : بردبار]
روایات و احکامات
بخاری شریف میں حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں ان عورتوں پر عار رکھا کرتی تھی جو اپنا نفس حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ہبہ کریں اور کہتی تھیں کہ عورتیں بغیر مہر کے اپنے آپ کو حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حوالے کرنے میں شرماتی ہیں ؟ یہاں تک کہ یہ آیت اتری تو میں نے کہا کہ آپ کا رب آپ کے لئے کشادگی کرتا ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ آیت سے مراد یہی عورتیں ہیں ۔ ان کے بارے میں اللہ کے نبی کو اختیار ہے کہ جسے چاہیں قبول کریں اور جسے چاہیں قبول نہ فرمائیں ۔ پھر اس کے بعد یہ بھی آپ کے اختیار میں ہے کہ جنہیں قبول نہ فرمایا ہو انہیں جب چاہیں نواز دیں عامر شعبی سے مروی ہے کہ جنہیں موخر کر رکھا تھا ان میں حضرت ام شریک تھی ۔ ایک مطلب اس جملے کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ کی بیویوں کے بارے میں آپ کو اختیار تھا کہ اگر چاہیں تقسیم کریں چاہیں نہ کریں جسے چاہیں مقدم کریں جسے چاہیں موخر کریں ۔ اسی طرح خاص بات چیت میں بھی۔ لیکن یہ یاد رہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی پوری عمر برابر اپنی ازواج مطہرات میں عدل کے ساتھ برابری کی تقسیم کرتے رہے ۔ بعض فقہاء شافعیہ کا قول ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے مروی ہے کہ اس آیت کے نازل ہو چکنے کے بعد بھی اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم سے اجازت لیا کرتے تھے۔ مجھ سے تو جب دریافت فرماتے میں کہتی اگر میرے بس میں ہو تو میں کسی اور کے پاس آپ کو ہرگز نہ جانے دوں ۔ پس صحیح بات جو بہت اچھی ہے اور جس سے ان اقوال میں مطابقت بھی ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ آیت عام ہے ۔ اپنے نفس سونپنے والیوں اور آپ کی بیویوں سب کو شامل ہے ۔ ہبہ کرنے والیوں کے بارے میں نکاح کرنے نہ کرنے اور نکاح والیوں میں تقسیم کرنے نہ کرنے کا آپ کو اختیار تھا۔ پھر فرماتا ہے کہ یہی حکم بالکل مناسب ہے اور ازواج رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے سہولت والا ہے ۔ جب وہ جان لیں گی کہ آپ باریوں کے مکلف نہیں ہیں ۔ پھر بھی مساوات قائم رکھتے ہیں تو انہیں بہت خوشی ہوگی ۔ اور ممنون و مشکور ہوں گی اور آپ کے انصاف و عدل کی داددیں گی ۔ اللہ دلوں کی حالتوں سے واقف ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ کسے کس کی طرف زیادہ رغبت ہے ۔ مسند میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے طور پر صحیح تقسیم اور پورے عدل کے بعد اللہ سے عرض کیا کرتے تھے کہ الہ العالمین جہاں تک میرے بس میں تھا میں نے انصاف کر دیا ۔ اب جو میرے بس میں نہیں اس پر تو مجھے ملامت نہ کرنا یعنی دل کے رجوع کرنے کا اختیار مجھے نہیں ۔ اللہ سینوں کی باتوں کا عالم ہے ۔ لیکن حلم و کرم والا ہے ۔ چشم پوشی کرتا ہے معاف فرماتا ہے ۔