اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ فَمَنۡ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنۡکُثُ عَلٰی نَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیۡہُ اللّٰہَ فَسَیُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿٪۱۰﴾

(10 - الفتح)

Qari:


Indeed, those who pledge allegiance to you, [O Muhammad] - they are actually pledging allegiance to Allah. The hand of Allah is over their hands. So he who breaks his word only breaks it to the detriment of himself. And he who fulfills that which he has promised Allah - He will give him a great reward.

جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔ اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا

[اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک جو لوگ] [يُبَايِعُوْنَكَ : آپ سے بیعت کررہے ہیں] [اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں کہ] [يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ ۭ : وہ اللہ سے بیعت کررہے ہیں] [يَدُ اللّٰهِ : اللہ کا ہاتھ] [فَوْقَ : اوپر] [اَيْدِيْهِمْ ۚ : ان کے ہاتھوں کے] [فَمَنْ : پھر جس نے] [نَّكَثَ : توڑدیا عہد] [فَاِنَّمَا : تو اس کے سوا نہیں] [يَنْكُثُ : اس نے توڑدیا] [عَلٰي نَفْسِهٖ ۚ: اپنی ذات پر] [ وَمَنْ اَوْفٰى : اور جس نے پورا کیا] [بِمَا عٰهَدَ : جو اس نے عہد کیا] [عَلَيْهُ اللّٰهَ : اللہ پر، سے] [فَسَيُؤْتِيْهِ : تو وہ عنقریب اسے دیگا] [اَجْرًا عَظِيْمًا : اجر عظیم]

Tafseer / Commentary

آنکھوں دیکھا گواہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو فرماتا ہے ہم نے تمہیں مخلوق پر شاہد بنا کر ، مومنوں کو خوشخبریاں سنانے والا کافروں کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اس آیت کی پوری تفسیر سورۃ احزاب میں گذر چکی ہے ۔ تاکہ اے لوگو اللہ پر اور اس کے نبی پر ایمان لاؤ اور اس کی عظمت و احترام کرو بزرگی اور پاکیزگی کو تسلیم کرو اور اس لئے کہ تم اللہ تعالیٰ کی صبح شام تسبیح کرو ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تعظیم و تکریم بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ دراصل خود اللہ تعالیٰ سے ہی بیعت کرتے ہیں جیسے ارشاد ہے آیت ( مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ ۚ وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا 80؀ۭ) 4- النسآء:80) یعنی جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کی اس نے اللہ کا کہا مانا اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے یعنی وہ ان کے ساتھ ہے ان کی باتیں سنتا ہے ان کا مکان دیکھتا ہے ان کے ظاہر باطن کو جانتا ہے پس دراصل رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے واسطے سے ان سے بیعت لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ، جیسے فرمایا آیت ( اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ ١١١۔) 9- التوبہ:111) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں اور ان کے بدلے میں جنت انہیں دے دی ہے وہ راہ اللہ میں جہاد کرتے ہیں مرتے ہیں اور مارتے ہیں اللہ کا یہ سچا وعدہ تورات و انجیل میں بھی موجود ہے اور اس قرآن میں بھی سمجھ لو کہ اللہ سے زیادہ سچے وعدے والا کون ہوگا ؟ پس تمہیں اس خرید فروخت پر خوش ہو جانا چاہیے دراصل سچی کامیابی یہی ہے ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرماتے ہیں جس نے راہ اللہ میں تلوار اٹھا لی اس نے اللہ سے بیعت کر لی اور حدیث میں ہے حجر اسود کے بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کھڑا کرے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے دیکھے گا اور زبان ہوگی جس سے بولے گا اور جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہے اس کی گواہی دے گا اسے بوسہ دینے والا دراصل اللہ تعالیٰ سے بیعت کرنے والا ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی پھر فرماتا ہے جو بیعت کے بعد عہد شکنی کرے اس کا وبال خود اسی پر ہوگا اللہ کا وہ کچھ نہ بگاڑے گا اور جو اپنی بیعت کو نبھا جائے وہ بڑا ثواب پائے گا یہاں جس بیعت کا ذکر ہے وہ بیعت الرضوان ہے جو ایک ببول کے درخت تلے حدیبیہ کے میدان میں ہوئی تھی اس دن بیعت کرنے والے صحابہ کی تعداد تیرہ سو چودہ سو یا پندرہ سو تھی ٹھیک یہ ہے کہ چودہ سو تھی اس واقعہ کی حدیثیں ملاحظہ ہوں ۔ بخاری شریف میں ہے ہم اس دن چودہ سو تھے بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے آپ نے اس پانی میں ہاتھ رکھا پس آپ کی انگلیوں کے درمیان سے اس پانی کی سوتیں ابلنے لگیں ۔ یہ حدیث مختصر ہے اس حدیث سے جس میں ہے کہ صحابہ سخت پیاسے ہوئے پانی تھا نہیں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انہیں اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا انہوں نے جا کر حدیبیہ کے کنویں میں اسے گاڑ دیا اب تو پانی جوش کے ساتھ ابلنے لگا یہاں تک کہ سب کو کافی ہو گیا حضرت جابر سے پوچھا گیا کہ اس روز تم کتنے تھے ؟ فرمایا چودہ سو لیکن اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو پانی اس قدر تھا کہ سب کو کافی ہو جاتا ، بخاری کی روایت میں ہے کہ"پندرہ سو تھے" حضرت جابر سے ایک روایت میں پندرہ سو بھی مروی ہے ، امام بیہقی فرماتے ہیں فی الواقع تھے تو پندرہ سو اور یہی حضرت جابر کا قول تھا پھر آپ کو کچھ وہم سا ہوگیا اور چودہ سو فرمانے لگے ابن عباس سے مروی ہے کہ سوا پندرہ سو تھے ۔ لیکن آپ سے مشہور روایت چودہ سو کی ہے اکثر راویوں اور اکثر سیرت نویس بزرگوں کا یہی قول ہے کہ چودہ سو تھے ایک روایت میں ہے اصحاب شجرہ چودہ سو تھے اور اس دن آٹھواں حصہ مہاجرین کا مسلمان ہوا ۔ سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ حدیبیہ والے سال رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے ساتھ سات سو صحابہ کو لے کر زیارت بیت اللہ کے ارادے سے مدینہ سے چلے قربانی کے ستر اونٹ بھی آپ کے ہمراہ تھے ہر دس اشخاص کی طرف سے ایک اونٹ ہاں حضرت جابر سے روایت ہے کہ آپ کے ساتھی اس دن چودہ سو تھے ابن اسحاق اسی طرح کہتے ہیں اور یہ ان کے اوہام میں شمار ہے ، بخاری و مسلم جو محفوظ ہے وہ یہ کہ ایک ہزار کئی سو تھے جیسے ابھی آرہا ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اس بیعت کا سبب سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت عمر کو بلوایا کہ آپ کو مکہ بھیج کر قریش کے سرداروں سے کہلوائیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) لڑائی بھڑائی کے ارادے سے نہیں آئے بلکہ آپ بیت اللہ شریف کے عمرے کے لئے آئے ہیں لیکن حضرت عمر نے فرمایا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے خیال سے تو اس کام کے لئے آپ حضرت عثمان کو بھیجیں کیونکہ مکہ میں میرے خاندان میں سے کوئی نہیں یعنی بنوعدی بن کعب کا قبیلہ نہیں جو میری حمایت کرے آپ جانتے ہیں کہ قریش سے میں نے کتنی کچھ اور کیا کچھ دشمنی کی ہے اور وہ مجھ سے وہ کس قدر خار کھائے ہوئے ہیں مجھے تو وہ زندہ ہی نہیں چھوڑیں گے چنانچہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس رائے کو پسند فرما کر جناب عثمان ذوالنورین کو ابو سفیان اور سرداران قریش کے پاس بھیجا آپ جا ہی رہے تھے کہ راستے میں یا مکہ میں داخل ہوتے ہی ابان بن سعید بن عاص مل گیا اور اس نے آپ کو اپنے آگے سواری پر بٹھا لیا اپنی امان میں انہیں اپنے ساتھ مکہ میں لے گیا آپ قریش کے بڑوں کے پاس گئے اور حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا پیغام پہنچایا انہوں نے کہا کہ اگر آپ بیت اللہ شریف کا طواف کرنا چاہیں تو کر لیجئے آپ نے جواب دیا کہ یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے میں طواف کر لوں ، اب ان لوگوں نے جناب ذوالنورین کو روک لیا ادھر لشکر اسلام میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ حضرت عثمان کو شہید کر ڈالا گیا ، اس وحشت اثر خبر نے مسلمانوں کو اور خود رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بڑا صدمہ پہنچایا اور آپ نے فرمایا کہ اب تو ہم بغیر فیصلہ کئے یہاں سے نہیں ہٹیں گے، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صحابہ کو بلوایا اور ان سے بیعت لی ایک درخت تلے یہ بیعت الرضوان ہوئی ۔ لوگ کہتے ہیں یہ بیعت موت پر لی تھی یعنی لڑتے لڑتے مر جائیں گے لیکن حضرت جابر کا بیان ہے کہ موت پر بیعت نہیں لی تھی بلکہ اس اقرار پر کہ ہم لڑائی سے بھاگیں گے نہیں جتنے مسلمان صحابہ اس میدان میں تھے سب نے آپ سے بہ رضامندی بیعت کی سوائے جد بن قیس کے جو قبیلہ بنو سلمہ کا ایک شخص تھا یہ اپنی اونٹنی کی آڑ میں چھپ گیا پھر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) اور صحابہ کو معلوم ہوگیا کہ حضرت عثمان کی شہادت کی افواہ غلط تھی اس کے بعد قریش نے سہیل بن عمرو، حویطب بن عبدالعزیٰ اور مکرز بن حفص کو آپ کے پاس بھیجا یہ لوگ ابھی یہیں تھے کہ بعض مسلمانوں اور بعض مشرکوں میں کچھ تیز کلامی شروع ہو گئی نوبت یہاں تک پہنچی کہ سنگ باری اور تیر باری بھی ہوئی اور دونوں طرف کے لوگ آمنے سامنے ہوگئے ادھر ان لوگوں نے حضرت عثمان وغیرہ کو روک لیا ادھر یہ لوگ رک گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے منادی نے ندا کر دی کہ روح القدس اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آئے اور بیعت کا حکم دے گئے آؤ اللہ کا نام لے کر بیعت کر جاؤ اب کیا تھا مسلمان بےتابانہ دوڑے ہوئے حاضر ہوئے آپ اس وقت درخت تلے تھے سب نے بیعت کی اس بات پر کہ وہ ہرگز ہرگز کسی صورت میں میدان سے منہ موڑنے کا نام نہ لیں گے اس سے مشرکین کانپ اٹھے اور جتنے مسلمان ان کے پاس تھے سب کو چھوڑ دیا اور صلح کی درخواست کرنے لگے ۔ بیہقی میں ہے کہ بیعت کے وقت اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا الہٰی عثمان تیرے اور تیرے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کام کو گئے ہوئے ہیں پس آپ نے خود اپنا ایک ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پر رکھا گویا حضرت عثمان کی طرف سے بیعت کی۔ پس حضرت عثمان کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ہاتھ ان کے اپنے ہاتھ سے بہت افضل تھا ۔ اس بیعت میں سب سے پہل کرنے والے حضرت ابو سنان اسدی (رض) تھے ۔ انہوں نے سب سے آگے بڑھ کر فرمایا حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں بیعت کرلوں آپ نے فرمایا کس بات پر بیعت کرتے ہو ؟ جواب دیا جو آپ کے دل میں ہو اس پر آپ کے والد کا نام وہب تھا صحیح بخاری میں شریف میں حضرت نافع سے مروی ہے کہ لوگ کہتے ہیں حضرت عمر کے لڑکے حضرت عبداللہ نے اپنے والد سے پہلے اسلام قبول کیا دراصل واقعہ یوں نہیں ۔ بات یہ ہے کہ حدیبیہ والے سال حضرت عمر نے اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ کو ایک انصاری کے پاس بھیجا کہ جا کر اپنے گھوڑے لے آؤ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) لوگوں سے بیعت لے رہے تھے حضرت عمر کو اس کا علم نہ تھا یہ اپنے طور پوشیدگی سے لڑائی کی تیاریاں کر رہے تھے۔ حضرت عبداللہ نے دیکھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت ہو رہی ہے تو یہ بیعت سے مشرف ہوئے پھر گھوڑا لینے گئے اور گھوڑا لا کر حضرت عمر کے پاس آئے اور کہا حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) بیعت لے رہے ہیں اب جناب فاروق آئے اور حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کی اس بنا پر لوگ کہتے ہیں کہ بیٹے کا اسلام باپ سے پہلے کا ہے ۔ بخاری کی دوسری روایت میں ہے لوگ الگ الگ درختوں تلے آرام کر رہے تھے کہ حضرت عمر نے دیکھا کہ ہر ایک کی نگاہیں حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ہیں اور لوگ آپ کو گھیرے ہوئے ہیں حضرت عبداللہ سے فرمایا جاؤ ذرا دیکھو تو کیا ہو رہا ہے ؟ یہ آئے دیکھا کہ بیعت ہو رہی ہے تو بیعت کر لی پھر جا کر حضرت عمر کو خبر کی چنانچہ آپ بھی فوراً آئے اور بیعت سے مشرف ہوئے ۔ حضرت جابر کا بیان ہے کہ جب ہم نے بیعت کی ہے اس وقت حضرت عمر فاروق آپ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور آپ ایک ببول کے درخت تلے تھے ۔ حضرت معقل بن یسار کا بیان ہے کہ اس موقعہ پر درخت کی ایک جھکی ہوئی شاخ کو آپ کے سر سے اوپر کو اٹھا کر میں تھامے ہوئے تھا ہم نے آپ سے موت پر بیعت نہیں کی بلکہ نہ بھاگنے پر ۔ حضرت سلمہ بن اکوع فرماتے ہیں ہم نے مرنے پر بیعت کی تھی آپ فرماتے ہیں ایک مرتبہ بیعت کر کے میں ہٹ کر ایک طرف کو کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا سلمہ تم بیعت نہیں کرتے ؟ میں نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے تو بیعت کر لی آپ نے فرمایا خیر آؤ بیعت کرو چنانچہ میں نے قریب جا کر پھر بیعت کی ۔ حدیبیہ کا وہ کنواں جس کا ذکر اوپر گذرا صرف اتنے پانی کا تھا کہ پچاس بکریاں بھی آسودہ نہ ہو سکیں آپ فرماتے ہیں کہ دوبارہ بیعت کر لینے کے بعد آپ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ میں بےسپر ہوں تو آپ نے مجھے ایک ڈھال عنایت فرمائی پھر لوگوں سے بیعت لینی شروع کر دی پھر آخری مرتبہ میری طرف دیکھ کر فرمایا سلمہ تم بیعت نہیں کرتے ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پہلی مرتبہ جن لوگوں نے بیعت کی میں نے ان کے ساتھ ہی بیعت کی تھی پھر بیچ میں دوبارہ بیعت کر چکا ہوں آپ نے فرمایا اچھا پھر سہی چنانچہ اس آخری جماعت کے ساتھ بھی میں نے بیعت کی آپ نے پھر میری طرف دیکھ کر فرمایا سلمہ تمہیں ہم نے جو ڈھال دی تھی وہ کیا ہوئی؟ میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت عامر سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ان کے پاس دشمن کا وار روکنے والی کوئی چیز نہیں میں نے وہ ڈھال انہیں دے دی تو آپ ہنسے اور فرمایا تم بھی اس شخص کی طرح ہو جس نے اللہ سے دعا کی کہ اے الہٰی میرے پاس کسی ایسے کو بھیج دے جو مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو ۔ پھر اہل مکہ سے صلح کی تحریک کی آمدورفت ہوئی اور صلح ہو گئی میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ کا خادم تھا ان کے گھوڑے کی اور ان کی خدمت کیا کرتا تھا وہ مجھے کھانے کو دے دیتے تھے میں تو اپنا گھر بار بال بچے مال دولت سب راہ اللہ میں چھوڑ کر ہجرت کر کے چلا آیا تھا ، جب صلح ہو چکی ادھر کے لوگ ادھر ادھر کے ادھر آنے لگے تو میں ایک درخت تلے جا کر کانٹے وغیرہ ہٹا کر اس کی جڑ سے لگ کر سو گیا اچانک مشرکین مکہ میں سے چار شخص وہیں آئے اور حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں کچھ گستاخانہ کلمات سے آپس میں باتیں کرنے لگے مجھے بڑا برا معلوم ہوا میں وہاں سے اٹھ کر دوسرے درخت تلے چلا گیا ، اب لوگوں نے اپنے ہتھیار اتارے درخت پر لٹکا کر وہاں لیٹ گئے تھوڑی دیر گذری ہوگی جو میں نے سنا کہ وادی کے نیچے کے حصہ سے کوئی منادی ندا کر رہا ہے کہ اے مہاجر بھائیو حضرت دہیم قتل کر دئیے گئے میں نے جھٹ سے تلوار تان لی اور اسی درخت تلے گیا جہاں چاروں سوئے ہوئے تھے جاتے ہی پہلے تو ان کے ہتھیار قبضے میں کئے اور اپنے ایک ہاتھ میں انہیں دبا کر دوسرے ہاتھ سے تلوار تول کر ان سے کہا سنو اس اللہ کی قسم جس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو عزت دی ہے تم میں سے جس نے بھی سر اٹھا یا میں اس کا سر قلم کر دونگا جب وہ اسے مان چکے میں نے کہا اٹھو اور میرے آگے آگے چلو چنانچہ ان چاروں کو لے کر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ادھر میرے چچا حضرت عامر بھی مکرز نامی عبلات کے ایک مشرک کو گرفتار کر کے لائے اور بھی اسی طرح کے ستر مشرکین حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر کئے گئے تھے آپ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا انہیں چھوڑ دو برائی کی ابتداء بھی انہی کے سر رہے اور پھر اس کی تکرار کے ذمہ دار بھی یہی رہیں چنانچہ ان سب کو رہا کر دیا گیا اسی کا بیان آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا 24؀) 48- الفتح:24)، میں ہے ۔ حضرت سعید بن مسیب کے والد بھی اس موقعہ پر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ تھے آپ کا بیان ہے کہ اگلے سال جب ہم حج کو گئے تو اس درخت کی جگہ ہم پر پوشیدہ رہی ہم معلوم نہ کر سکے کہ کس جگہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہاتھ پر ہم نے بیعت کی تھی اب اگر تم پر یہ پوشیدگی کھل گئی ہو تو تم جانو ایک روایت میں حضرت جابر سے مروی ہے کہ اس وقت حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا آج زمین پر جتنے ہیں ان سب پر افضل تم لوگ ہو ۔ آپ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں ہوتیں تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھا دیتا ، حضرت سفیان فرماتے ہیں اس جگہ کی تعین میں بڑا اختلاف ہے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان ہے کہ جن لوگوں نے اس بیعت میں شرکت کی ہے ان میں سے کوئی جہنم میں نہیں جائے گا (بخاری ومسلم) اور روایت میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جن لوگوں نے اس درخت تلے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے سب جنت میں جائیں گے مگر سرخ اونٹ والا ہم جلدی دوڑے دیکھا تو ایک شخص اپنے کھوئے ہوئے اونٹ کی تلاش میں تھا ہم نے کہا چل بیعت کر اس نے جواب دیا کہ بیعت سے زیادہ نفع تو اس میں ہے کہ میں اپنا گم شدہ اونٹ پا لوں ۔ مسند احمد میں ہے آپ نے فرمایا کون ہے جو ثنیۃ المرار پر چڑھ جائے اس سے وہ دور ہو جائے گا جو بنی اسرائیل سے دور ہوا پس سب سے پہلے قبیلہ خزرج کے ایک صحابی اس پر چڑھ گئے پھر تو اور لوگ بھی پہنچ گئے پھر آپ نے فرمایا تم سب بخشے جاؤ گے مگر سرخ اونٹ والا ہم اس کے پاس آئے اور اس سے کہا تیرے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے استغفار طلب کریں تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے میرا اونٹ مل جائے تو میں زیادہ خوش ہوں گا بہ نسبت اس کے کہ تمہارے صاحب میرے لئے استغفار کریں یہ شخص اپنا گم شدہ اونٹ ڈھونڈ رہا تھا حضرت حفصہ نے جب حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زبانی یہ سنا کہ اس بیعت والے دوزخ میں داخل نہیں ہوں گے تو کہا ہاں ہوں گے آپ نے انہیں روک دیا تو مائی صاحبہ نے آیت ( وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71؀ۚ) 19- مريم:71) پڑھی یعنی تم میں سے ہر شخص کو اس پر وارد ہونا ہے ، حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اس کے بعد ہی فرمان باری ہے آیت ( ثُمَّ نُـنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيْنَ فِيْهَا جِثِيًّا 72؀) 19- مريم:72) یعنی پھر ہم تقویٰ والوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل اس میں گرا دیں گے (مسلم ) حضرت حاطب بن ابو بلتعہ کے غلام حضرت حاطب کی شکایت لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے آپ نے فرمایا تو جھوٹا ہے وہ جہنمی نہیں وہ بدر میں اور حدیبیہ میں موجود رہا ان بزرگوں کی ثنا بیان ہو رہی ہے کہ یہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے اس بیعت کو توڑنے والا اپنا ہی نقصان کرنے والا ہے اور اسے پورا کرنے والا بڑے اجر کا مستحق ہے جیسے فرمایا آیت ( لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا 18؀ۙ) 48- الفتح:18) ، یعنی اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے راضی ہو گیا جبکہ انہوں نے درخت تلے تجھ سے بیعت کی ان کے دلی ارادوں کو اس نے جان لیا پھر ان پر دلجمعی نازل فرمائی اور قریب کی فتح سے انہیں سرفراز فرمایا ۔

Select your favorite tafseer